

جسونت
سنگھ کی
کتاب(
جناح،
بھارت،
اور
تقسیم
آزادی)
پاکستان
میں پہنچ
گئ
By:Abad ul Haq
ہندوستان
میں
متنازعہ
ہو جانے
والی
بھارت کے
سابق
وزیر
خارجہ
جسونت
سنگھ کی
کتاب
محدود
تعداد
میں
پاکستان
پہنچ گئی
جس کی
اطلاع
ملتے ہی
شائقین
اس دکان
میں جمع
ہوگئے
جہاں یہ
کتاب
پہنچی
تھی۔
اس کتاب
کی وجہ سے
بھارت کی
بڑی
سیاسی
جماعت
بھارتیہ
جنتا
پارٹی
بحران کا
شکار
ہے۔بی جے
پی نے
کتاب کے
مصنف اور
سینیئر
رہنما
جسونت
سنگھ کو
اپنی
کتاب میں
بانی
پاکستان
محمد علی
جناح کی
ستائش
کرنے پر
وضاحت کا
کو ئی
موقع دیے
بغیر
پارٹی سے
نکال دیا
تھا
لاہور کے
ایک کتب
فروش نے
جن دو
ہزار
کاپیوں
کا آرڈر
بھیجا
تھا اس
میں سے
چند
کاپیوں
کے لاہور
پہنچے پر
کتاب کے
منتظر
دکان میں
جمع
ہوگئے۔
جسونت
سنگھ کی
کتاب کو
بدھ کی
رات
لاہور
علاقے
گلبرگ
میں
پرانی
اور نئی
کتابوں
کے مزکر
ریڈنگز
پر فروخت
کے لیے
رکھا گیا
اور دکان
کے جنرل
مینجر
راؤ عابد
کے بقول
ایک
گھنٹے کے
دوران
کتاب کی
دس سے
زائد
کاپیاں
فروخت
ہوگئیں۔
انہوں نے
بتایا کہ
اس کتاب
کی دو
ہزار
کاپیوں
کا آرڈر
دیا تھا
لیکن
انہیں
ابھی تک
صرف ایک
سو
کاپیاں
ملی ہیں
جبکہ ان
کے پاس
ڈیڑہ سو
کے لگ بھگ
افراد نے
اس کتاب
کو
خریدنے
کے لیے
پہلے سے
بکنگ
کروا
رکھی ہے۔
اس کتاب
کی بھارت
میں قیمت
چھ سو
پچانوے
روپے ہے
لیکن
پاکستان
میں یہ
کتاب
بارہ سو
پچاس
روپے میں
فروخت
ہورہی
ہے۔
راؤ عابد
نے بتایا
کہ کتاب
کے بارے
میں
ہندوستان
میں ہونے
والے
حالیہ
تنازعے
کی وجہ سے
انہیں یہ
اندازہ
تھا کہ
پاکستان
میں اس
کتاب کی
مانگ
ہوگی اور
اسی کے
پیش نظر
دو ہزار
کاپیوں
کا آرڈر
دیا تھا
جو بقول
ان کے کم
لگتا ہے
اور مزید
کاپیاں
منگوانے
کے لیے
آرڈر
دینا پڑے
گا۔
ان کے
بقول اس
کتاب کا
اردو میں
ترجمہ کے
لیے حقوق
حاصل
کرنے پر
بات ہوئی
تھی لیکن
کتاب
بھارتی
پبلشر نے
شائع کی
ہے اس لیے
وہ خود ہی
اس کا
اردو میں
ترجمہ
کرارہے
ہیں۔
جسونت
سنگھ کی
کتاب کی
پاکستان
میں
مقبولیت
کا
اندازہ
اس بات سے
لگایا
جاسکتا
ہے کہ جس
دکان میں
یہ فروخت
کے لیے
رکھی گئی
ہے اس میں
داخل
ہونے
والا ہر
شخص اس
کتاب پر
نظر پڑنے
پر اس کی
ورق
گردانی
ضرور
کرتا ہے
چاہے اس
نے کتاب
خریدنی
ہے یا
نہیں۔
اس کتاب
کو
خریدنے
والے
یعقوب
خان نے
بتایا کہ
وہ اس
کتاب کو
تلاش
کررہے
تھے اور
اسلام
آباد میں
بھی اس
کتاب کو
خریدنے
کی کوشش
کی تو
معلوم
ہوا کتاب
ابھی
دستیاب
نہیں
ہے۔ان کے
بقول
جیسے ہی
انہیں
معلوم
ہوا کہ یہ
لاہور
میں
فروخت
ہورہی ہے
تو انہوں
نے فوراً
آکر اس
کتاب کو
خریدلیا
ہے۔
جسونت
سنگھ کی
کتاب نے
جہاں
بھارت
میں ایک
ہنگامہ
کھڑا
کردیا ہے
وہاں ہی
پاکستان
میں اس
کتاب پر
بحث جاری
ہے اور
تقریبا
تمام نجی
ٹی وی
چینلز نے
اس کتاب
کے حوالے
سے
پروگرام
نشر کیے
لیکن ان
پروگراموں
میں شرکت
کرنے
والے
افراد کی
اکثریت
کی گفتگو
کتاب کی
عدم
دستیابی
کی وجہ
ایک پہلو
تک محدود
رہی۔
عام خیال
ہے کہ
پاکستان
میں اپنے
موضوع کے
وجہ سے یہ
کتاب عام
لوگوں کی
توجہ بھی
حاصل کرے
گی۔

By:Riyaz Sohail
بھارت کے
سابق
وزیر
خارجہ
جسونت
سنگھ نے
کہا ہے کہ
پاکستان
اور
بھارت کو
تاریخ کے
سایوں سے
نکلنا
پڑے گا
اور انیس
سو
پینسٹھ
کی
صورتحال
پر واپس
آنا پڑے
گا۔
جسونت
سنگھ
پاکستان
کے بانی
محمد علی
جناح کے
بارے میں
کتاب کی
رونمائی
کے لیے
پاکستان
کے دورے
پر ہیں،
ان کے
مطابق
کشمیر
مسئلہ
صرف بات
چیت سے ہی
حل
ہوسکتا
ہے۔
جسونت
سنگھ کا
کہنا ہے
کہ امن کے
بغیر
برصغیر
میں کہیں
بھی امن،
سکون اور
چین نہیں
ملے گا۔146تاریخ
کے سایوں
سے باہر
نکلیں
ایک نیا
سویرا
آنے
دیجیئے
یہ آج کی
آواز ہے
عوام کی
تڑپ
ہے۔۔۔امن
کے بغیر
دونوں
ملکوں کے
لوگ غربت
میں ہی
ڈوبے
رہیں گے،
اس کے لیے
عوام کو
اپنی
آواز
اٹھانی
پڑےگی۔
کراچی
میں اپنی
کتاب
جناح،
بھارت،
تقسیم،
آزادیکی
رونمائی
سے قبل
جسونت
سنگھ نے
پریس
کانفرنس
سے خطاب
کیا، جس
میں شعیب
ملک اور
ثانیہ کی
شادی کا
بھی ذکر
آیا۔ان
کا کہنا
تھا کہ
شعیب ملک
کو تو
آسانی سے
ویزہ مل
گیا اب
ثانیہ کو
بھی
بھگوان
کرے گا مل
جائیگا۔
راجستھان
اور سندھ
میں
لاکھوں
شادیاں
ہوئی
ہیں، ان
تکلیفوں
کو بھی
سمجھنے
کی ضرورت
ہے۔ ان
غریبوں
کو ویزے
ملنے اور
آنے جانے
میں
تکلیف
ہوتی۔
راجستھان
اور سندھ
میں
لاکھوں
شادیاں
ہوئی
ہیں، ان
تکلیفوں
کو بھی
سمجھنے
کی ضرورت
ہے۔ ان
غریبوں
کو ویزے
ملنے اور
آنے جانے
میں
تکلیف
ہوتی۔
سن
پینسٹھ
سے پہلے
کے جو
حالات
تھے ان پر
واپس
آئیں ہم
نے
ہندستان
اور
پاکستان
میں
دیوار
برلن
کھڑی
کردی ہے
اب اسے
گرانا
پڑے گا۔
جسونت
سنگھ جب
بھارت کے
وزیر
خارجہ
تھے تو ان
ہی دنوں
کارگل کا
واقعہ
پیش آیا
تھا۔جسونت
سنگھ کا
کہنا ہے
کہ اس
واقعے سے
قبل
ہندوستان
نے ہی امن
کے لیے
پہل کی
تھی۔
160کارگل سے
پہلے
واجپائی
اور میں
امرتسر
سے بس میں
لاہور
آئے تھے
عام طور
پر وزیر
اعظم ایک
ملک سے
دوسرے
ملک بسوں
میں نہیں
جایا
کرتے
تھے،
واجپائی
نے لاہور
میں یہ
کہا تھا
کہ یہ بس
لوہے اور
دیگر
سامان کی
بلکہ
جذبات
اور
احساسات
کی بنی
ہوئی بس
ہے۔
ان کا
کہنا تھا
کہ لاہور
میں امن
معاہدے
پر دستخط
ہوئے جس
کی ابھی
سیاہی
بھی نہیں
سوکھی
تھی کہ
کارگل
میں
پاکستان
کی طرف سے
کارروائی
کی گئی
مگر اس کے
باوجود
واجپائی
حکومت نے
جنرل
مشرف کو
آگرہ آنے
کی دعوت
دی تھی۔
مگر اچھا
ہے کہ ہم
تاریخ کی
پرچھائیوں
سے آگے
چلیں۔
پاکستان
اور
بھارت
میں امن
کے لیے
امریکہ
کے کردار
پر جسونت
سنگھ نے
تنقید کی
اور کہا
کہ
امریکہ
کو اپنا
مفاد
عزیز ہے
۔فغانستان
اور
پاکستان
کے حوالے
سے انہوں
نے ایک
لفظ
بنایا ہے
یف پیک جس
سے مجھے
سخت
تکلیف
ہے، مگر
اکثر
اپنے
امریکی
دوستوں
سے کہتا
ہوں کہ آپ
ساڑھ
ہزار میل
دور رہتے
ہیں اور
ہم صرف
ساڑھ آٹھ
منٹ ایک
دوسرے سے
دور ہیں۔
ان
سوالات
کا جواب
پاکستان
اور
بھارت
تینوں کو
مل کر
ڈھونڈنا
ہوگا۔
میں نہیں
سمجھتا
کہ
امریکہ
یا نیٹو
یہاں آکر
ہمیں
ایسی کو
تجویز دے
سکتا ہے
جو ہمیں
معلوم
نہیں ہے۔
سوالات
کا جواب
پاکستان
اور
بھارت
تینوں کو
مل کر
ڈھونڈنا
ہوگا۔
میں نہیں
سمجھتا
کہ
امریکہ
یا نیٹو
یہاں آکر
ہمیں
ایسی کو
تجویز دے
سکتا ہے
جو ہمیں
معلوم
نہیں
ہےجسونت
سنگھ
بھارت کے
سابق
وزیر
خارجہ کا
کہنا تھا
کہ ممبئی
واقعے پر
اگر کچھ
سوالات
اٹھتے
ہیں تو ان
کا جواب
دینا
اتنا ہی
ضروری ہے
جتنا بات
چیت جاری
رکھنا۔
تاہم ان
کا کہنا
تھا کہ ان
کی کتاب
پر بھارت
میں جو رد
عمل
سامنے
آیا وہ
بہت
تیکھا
تھا مگر
بھارت کا
ردعمل
تیکھا
نہیں تھا
لوگ ابھی
بھی بڑی
تعداد
میں کتاب
لے رہے
ہیں پڑھ
رہے ایک
ایسا
طبقہ تھا
جس نے
پڑھے بنا
ہی اس پر
ردعمل کا
اظہار
کردیا۔
جسونت
سنگھ کی
کتاب
اردو،
بنگالی،
گجراتی
اور ہندی
زبانوں
میں شائع
ہوچکی
ہے۔
کراچی
میں ان کے
انگریزی
کتاب کی
رونمائی
کی گئی۔
اس تقریب
میں
پاکستان
اور
بھارت
میں امن
کے لیے
کام کرنے
والے
کارکنوں
اور غیر
ملکی
سفیروں
نے بھی
شرکت کی۔
پاکستان
میں قیام
کے دوران
جسونت
سنگھ
اسلام
آباد میں
کتاب کی
رونمائی
میں شرکت
کریں گے
اور وہ
ہنگلاج
میں
ہندوؤں
کے مذہبی
آستھان
کی یاترا
کا بھی
ارادہ
رکھتے
ہیں۔