S A C W A

SOUTH ASIAN CHRISTIAN WRITER'S ASSOCIATION

A Forum of Writers, Intellectuals, Journalists and critics

 
 
 
 Critic and Certainy
 

             

جیم فے غوری کا شعری مجموعہ
*ہاتھ پر دیا دکھنا*
قاضی جاوید کی تحریر(کلک کریں تنقید و تحقیق)
 

روم کے ایک مہمان گھر میں میرے اور فادر جیمز چنّن کے لیے دو کمرے مخصوص تھے۔ اِس لیے جب میلان سے اسّی نوّے کلو میٹر کے فاصلے پر، اپنے حُسن کی اَن مِٹ یادوں سے دامن بھرنے والی مورو جھیل کے کِنارے ایک چھوٹے سے پہاڑی گان59و، کانڈے نیبیا، میں بین المذاہبی اِشتراک کے موضُوع پر ایشیائی اور افریقی مُلکوں کے دانش وروں کی کانفرنس کے خاتمے پر فادر جیمز چنّن نے یہ تجویز پیش کی کہ میلان سے روم جاتے ہُوئے ہم راستے میں ایک رات فیڈنزا میں جیم۔فے غوری کے گھر ٹھہر جائیں تو مجھے یہ تجویز زیادہ اچھی نہ لگی۔ بیرونی دُن58یا میں پاکستانی عُمُوماً کسمسپرسی کے عالَم میں زِن58دگی بسر کرتے ہیں۔ اُن کے لیے بوجھ بننا ظاہر ہے کہ کوئی اچھی بات نہِیں۔ہمارے اَدیبوں کے وُہ سفر نامے شاید آپ کوبھی یاد ہوں گے جِن میں وُہ یورپی اور امریکی شہروں میں مقیم پاکستانیوں کے ایک ایک کمرے کے فلیٹ میں قیام کا ذکر کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کیسے وُہ پانچ چھ افراد مِل کر ایک کمرے میں رہتے ہیں۔
فادر جیمز چنّن نے یقین دِلایا کہ غوری کے ہاں ایسا نہ ہو گا۔ وہاں ہم آرام اور آسایش سے رہ سکیں گے۔ سال میں دس بارہ غیر مُلکی دورے کرنے والے فادر جیمز چنّن کے ذوقِ معیار پر شُبہ، کرنا سہل نہِیں۔ وُہ پاکستان میں پوپ کے مشیر اور کئی بین الاقوامی مسیحی اِداروں کے نُمایندہ اور ریجنل چیف ہیں۔ یُوں جیم۔فے غوری کے ساتھ ہماری مُلاقات طے پا گئی۔ کانڈے نیبیا کانفرنس میں عابِد حسن منٹو صاحب بھی شریک تھے اور لاہور سے ہم تینوں اکٹھے ہی گئے تھے۔ اِس لیے چاہتے تو ہم یہ تھے کہ منٹو صاحب بھی ہمارے ساتھ چلیں، مگر اِنگلستان میں اُن کے بہُت سے مدّاح منتظر تھے۔ لہٰذا کانفرنس ختم ہوتے ہی وُہ مانچسٹر روانہ ہو گئے تھے۔
محبتیں ڈُھونڈنے والا غوری ہمیں لینے کے لیے اپنے قصبہ سے ڈیڑھ سو کلومیٹر دُور میلان آگیا جِس کے مرکزی تاریخی گرجا گھر کے سامنے کھلے میدان میں ہم اُس کے منتظر تھے۔ وُہ اکتوبر 2009ء کے پہلے اِتوار کا دِن تھا اور چرچ کا میدان سیکڑوں سیّاحوں سے بھرا ہُوا تھا۔ اصل میں تو سارا اِٹلی ہی عجائب گھر ہے۔ آپ اُس کے کِسی شہر یا قصبے میں جائیں تو غیر مُلکی سیّاحوں کے غول کے غول دِکھائی دیں گے۔ چند برس پہلے تک سیّاح عُمُوماً سفید فام ہی ہُوا کرتے تھے۔ مگر پچھلے بیس پچّیس برسوں میں دُن58یا کے معاشی نقشے میں جو تبدیلیاں آئی ہیں، اُنھوں نے سیّاحوں کے رنگ بھی بدل دِیے ہیں۔ چناں چہ اب سفید فام لوگوں کے دوش بہ دوش زرد نسل کے افراد۔۔۔ چینی، جاپانی اور کوریائی بھی کثرت سے دِکھائی دیتے ہیں اور بھارتی سیّاح بھی جا بہ جا نظر آتے ہیں۔
’اوہ مائی گاڈ‘۔۔۔ اِتوار کے سبب میلان کے بند بازاروں میں موٹر پر تیزی سے گُزرتے ہُوئے مجھے یاد آیا۔۔۔ ’یہ جیم۔ فے غوری تو شاعر ہے اور ابھی کچھ ہی مہینے پہلے نذیر قیصر نے اُس کا مجموعہء کلام شایع کِیا تھا۔ بھلا نام کیا ہے اُس مجموعے کا؟ مَیں نے خود سے پُوچھا۔ مگر یاد نہ آیا۔
’’غوری صاحب! شاعری کا مُعاملہ کیسا چل رہا ہے؟ مَیں نے پُوچھا۔
اپنے دیس سے آنے والے اجنبی مہمان کی طرف سے شاعر کے طور پر پہچانے جانے پر وہ ضرُور خوش ہُوا ہو گا۔
’بس جی۔۔۔ کچھ نہ کچھ چل ہی رہا ہے‘‘۔ اُس نے جواب دِیا۔’’آپ کو ایک تازہ نظم سُناؤں!‘‘۔
موٹرچلاتے ہُوئے شاعر سے اُس کی نظم سُننا اور وُہ بھی ایک یورپی شاہراہ پر، کِس قدر خطرناک ہو سکتا ہے اِس کے تصوُّر سے ہی مَیں لرز گیا۔
’’ارے نہِیں‘‘، مَیں نے بات ٹالنے کو کہا۔ ’’شاعری موٹر کار میں نہِیں سُنی جاتی۔ ہاں شام کو، رات کو جب بیٹھیں گے تو ایک کیا، آپ کی بہُت سی نظمیں سُنیں گے‘‘۔
شام کو اِطمینان سے مِل بیٹھنے کی نوبت نہ آئی۔ شام سے پہلے ہم لوگ غوری کے دِلکش اور پُرسکُون قصبہ فیڈنزا پہنچ گئے تھے۔ وہاں سالانہ میلا لگا ہُوا تھا اور ہم یورپ کے قصباتی میلا دیکھنے کی مسرّت سے محروم نہ رہنا چاہتے تھے۔ چناں چہ غوری کے اہلِ خانہ سے اِستقبالیہ جملوں کے تبادلے اور اِبتدائی تواضع سے فارغ ہوتے ہی میلا دیکھنے چلے گئے جہاں آدھا قصبہ اُمڈآیا تھا۔
دُوسرے دِن ناشتے کے فوراً بعد ہم غوری کی موٹر پر بیٹھے اٹلی کے مختلف قصبوں کی سیر کرتے ہُوئے وینس کو جا رہے تھے تو غوری نے اپنی ایک ادُھوری نظم سُنا دی:
سمُن58در کا نظّارہ، دریاؤں کی روانی
نباتات کی صُورت آرائیاں دیکھ کر
پہاڑوں سے بُلند میرا حوصلہ ہوتا ہے
مگر
جب مَیں خلقِ خُدا دیکھتا ہُوں
خونچکاں تصویروں کی تخلیق دیکھتا ہُوں
تو میری آنکھ کا پانی
سُورج کی حرارت سے پگھلتا ہے
موتی بن کر گِرتا ہے
بنجر زمین کی چھاتی پر
یہ سطریں اُس کی نظم ’’اِک بُجھارت کا نوحہ‘‘ میں شامل ہیں۔ شام کو وینس کے ریلوے سٹیشن پر ہم نے غوری سے جُدا ہونا تھا۔ اُس نے اپنے شہر کو لوٹنا تھا جب کہ مَیں اور فادر جیمز چنّن روم کا رُخ کرنے والے تھے۔ مَیں اور غوری وینس کی مرکزی ’گرینڈ کینال‘ کے کِنارے ریلوے سٹیشن کی سیڑھیوں پر بیٹھے تھے اور فادر جیمز چنّن غائب تھے۔ وُہ کچھ خریدنے نکلے تھے۔ ٹرین کے چھوٹنے میں چھ منٹ رہ گئے تھے۔ ہماری بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ آخِر غوری نے چنّن صاحب کو ہجُوم میں سے گُزر کر آتے دیکھ لیا۔ مَیں نے فوراً اٹیچی کیس اُٹھایا تو غوری نے اپنا بیگ کھولا۔ ’’ایک منٹ قاضی صاحب۔ مَیں نے اپنی کِتاب تو آپ کو دِی نہِیں‘‘۔
’’واہ کیا ہی خُوب ہے‘‘۔ کِتاب لیتے ہُوئے بس یہی ایک جُملہ مَیں شاعر سے کہ، سکا۔ ٹرین کی روانگی میں دو مِنٹ رہ گئے تھے اور ابھی ہم نے اُس میں داخل ہونا تھا۔ کوئی وِسل دِیے بغیر جب ٹرین چلنے لگی تو غوری نے ہاتھ ہِلایا۔ لمحوں میں وُہ نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ ’’لاہور جا کر پڑھوں گا‘‘، مَیں نے خود سے کہا اور اُس کی کِتاب ہینڈ بیگ میں ڈال دِی۔
’ہاتھ پر دِیا رکھنا‘ یہ ہے جیم۔فے غوری کی کِتاب کا عُنوان، جِس کے 95صفحوں پر نظمیں ہیں، غزلیں ہیں اور دس پندرہ ماہیے بھی ہیں۔ جانے کیوں پہلے مَیں نے ماہیے پڑھے:
یادوں میں صدا دینا
گرداب کی کشتی کو
اب پار لگا دینا
۔*۔
شمعوں کو بُجھا بیٹھے
راتوں کو بھٹکنے کا
نیا روگ لگا بیٹھے
روگ کی بات تو خیر ہے لیکن ایک ماہیا ایسا بھی ہے جِس کے تین مصرعوں میں شاعر کے ولولے اور عزائم کے ساتھ ساتھ اُس کی شخصیّت کے کئی بھید بھی کھل جاتے ہیں:
ہم لوٹ کے آئیں گے
سُوکھی ہُوئی شاخوں پر
نئے پھُول کھلائیں گے
نئے پھُول کھلانے کی تمنّائیں فیڈنزا کے حیات افروز ماحول میں پیدا ہو سکتی ہیں۔ مگر کیا یہ شاعر واقعی لوٹ کر آئے گا اور سُوکھی ہُوئی شاخوں پر نئے پھُول کھلائے گا؟ مَیں نے اُس سے یہ سوال نہِیں پوچھا تھا۔ ضرُورت بھی نہ تھی۔ کیوں کہ مجھے پتا ہے کہ ہم نے۔۔۔ ہم سب نے مِل کر۔۔۔ اپنا چمن ہی اُجاڑ دِیا ہے۔ اب یہاں کون لوٹ کر آئے گا۔ یہاں سے تو سب نکلنے کی تگ و دو میں ہیں۔
بیس پچّیس برس سے اِٹلی میں رہنے والے غوری کے لیے اب وُہ دیارِ غیر نہِیں رہا۔ وُہ اطالوی زُبان بولتا ہے اور اُس کے بچّے تو خیر ہیں ہی اطالوی۔ وہاں اُس کے دوست ہیں، عزیز ہیں اور وُہ صاف ستھری زِن58دگی کا عادی ہو گیا ہے۔ مگر یہ ہے کہ اکثر جانے والوں کی طرح وُہ اپنی جڑوں سے ناتا توڑنے پر آمادہ نہِیں۔ اُس کی نظم ’’لامرکزیّت‘‘ کا ایک حِصّہ دیکھیے:
سنولائی شام کی تنہائی میں
خاموشی کا زہر مجھے ڈسے
میرا رنگ رُوپ بگاڑ دے
میری رُوح کو کچوکے دے
اور خزاں سے چمن کو اُجاڑ کر
فصلِ بہار سے دُور لے جائیں
مگر اُس سنولائی شام کی تنہائی میں
خاموشی کا زہر
مجھے میرے مرکز سے ہٹا نہ سکے گا
میری رُوح کو پھڑ پھڑانے سے روک نہ سکے گا
مرکز سے جُڑے رہنے کی آرزُو مہاجروں کے دِل سے نہِیں نِکلتی۔ غوری بھی پیچھے کی یادوں کی آگ میں جلتا ہے۔ یہ جلن اُس کے مجموعہء کلام کے اِنتساب میں بھی محسوس ہوتی ہے:
اُن کے نام
جو زیتون کی شاخ ہاتھ میں لیے
متاعِ لوح و قلم کی پاس داری کرتے ہیں
اُن کے نام
جو تعصُّب کی چکّی میں پِستے ہیں
اور ناکردہ گُناہوں کی سزا پاتے ہیں
اُن کے نام
جو اپنی سرزمین کے لیے ترستے ہیں
اور بے وطن کے نام سے زِن58دگی گُزارتے ہیں
اُن کے نام
جو سُرخ گُلابوں کی خُوشبُو میں بسے رہتے ہیں
زمینی ہجرت ما بعد الطبیعیاتی بے وطنی (Metaphysical Homelessness) کے عذابوں کی آغوش میں پھینک دیتی ہے۔ ’ہاتھ پر دِیا رکھنا‘‘ کے مشتملات سے یہ جاننا دُشوار نہِیں کہ غوری اُس بے وطنی کے کرب سے گُزر رہا ہے۔ اپنی نظموں میں اُس نے بہُت سے سوال پوچھے ہیں جو بغیر جواب رہ گئے ہیں۔ اپنی کِتاب کی پہلی نظم میں وُہ یہ سوال لے آیا ہے کہ ’’گیندے کے پھُول میرے آنگن میں کیوں نہِیں کھلتے‘‘۔ ابھی ہم جواب کی تلاش میں اُس کی مدد کرنے کا اِرادہ کررہے ہوتے ہیں تو اُس کی نظم ’کاغذ چنتی لڑکی‘ سامنے آ جاتی ہے۔ اب اُس کے پاس ایک اور سوال ہے:
گلیوں ، بازاروں میں گُھومنے والی
وُہ لڑکی
گن58دہ، پیون58د لگا بڑا سا کپڑا کن58دھے پر
تھیلے کی شکل میں لٹکائے
کاغذ چُن58تی ہے
پھُول کیوں نہِیں چُن58تی؟
ہاں۔ واقعی غلیظ تھیلا اُٹھائے ننگے پان59و کُوڑے کرکٹ کے ڈھیروں کے گِرد منڈلانے والی دوشیزائیں پھُول کیوں نہِیں چنتیں؟ میرے خیال میں غوری کو اِس سوال کا جواب معلُوم ہے۔ وُہ جانتا ہے کہ ہم سب نے مِل کر ایسی سماج بنا دِی جِس میں پھُول کھلتے ہی نہِیں، کُوڑے کے ڈھیر البتہ بڑھتے جا رہے ہیں۔ اِس گلی سڑی سماج میں پھُولوں کے لیے، محبتوں اور مسرّتوں کے لیے کوئی جگہ، نہِیں رہی۔ اِسی لیے ہم سب یہاں سے بھاگنے کے لیے تیّار بیٹھے ہیں۔ مگر یہ اِقرار کوئی نہِیں کرتا کہ اِس چمن کو اُجاڑنے میں ہم سب نے کچھ نہ کچھ حِصّہ ضرُور لیا ہے۔ غوری نے مگر گُلاب موسموں کی آرزُو ترک نہِیں کی۔ ابھی مَیں نے اُس کی نظم ’اِک بجھارت کا نوحہ‘‘کا حوالہ دِیا تھا۔ اُس کی آخِری سطریں اُمید اور مایُوسی دونوں کا اِظہارکرتی ہیں:
اِن58صاف کا دیس، امن کے گِیت
صبح کا چِہرہ خن58داں، محبت کا راج
میرے مَن کی خواہش
نجانے کب ہو گی میری جِیت؟؟
۔*۔



 


 

 

 
   

 home page - index

top               «      »