S A C W A

SOUTH ASIAN CHRISTIAN WRITER'S ASSOCIATION

A Forum of Writers, Intellectuals, Journalists and critics

 
 
 
Eassy
 

 اقبال بسملؔ
سانگھڑ ۔سندھ
موسم گرما کی تعطیلات اور مسیحی والدین کی ذمہ داری

تعطیل یا چھٹی کا لفظ ہی ایسا ہے کہ جسے سنتے ہی سبھی چھوٹے بڑے خوشی سے اچھل پڑتے ہیں۔ ہر شخص یہ سنجھتا ہے
کہ کولھو کے بیل کی مانند ایک ہی ڈگر پر کام کرتے کرتے اکتانے کے بعد چھٹی یا تعطیل کے آنے سے وہ اس ایک ہی
طرز پر تھکا دینے والے کام سے ہٹ کر کوئی دوسرا کام کر سکے گا جس سے اس کے ذہن کو سکون حاصل ہو گا۔ اور اس
کے بعد وہ پھر تازہ دم ہو کر اپنے روز مرہ کے روائتی کا مو کچھ دنوں کے لئے بطریقِ احسن انجام دینے کے قابل ہو
سکے گا۔ اسی طرح طالب علموں کے لئے رات دن سکول جانے ،آنے اور پڑھائی کرنے سے جو بد دلی پیدا ہو جاتی ہے
اس میں تبدیلی اور خوشدلی اور تازگی لانے کے لئے تعطیلات کا ہونا لازم ہے۔ ویسے بھی بلحاظِ موسم سخت گرمی سے
محفوظ رہنے اور گرمی کی شدت کے پڑھائی پر اثر انداز ہونے کے باعث تعطیلات کا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
موسم گرما کی طویل تعطیلات طلباء کے لئے خوشی کی نوید لے کر آتی ہیں۔ انہیں طویل عرصے سے ان تعطیلات کا
انتظار ہوتا ہے۔ ان تعطیلات میں وہ اپنے آپ کو پڑھائی کے بوجھ سے آزاد پاتے ہیں۔وہ سوچتے ہیں کہ ان دنوں
میں وہ پڑھائی سے بے نیاز ہو کر کھیل کود میں اپنا وقت بہتر طور پر گذار سکیں گے۔
اکثر اوقات جب چھوٹے بچے سکول نہ جانے کی ضد کرتے ہیں تو والدین یہ کہہ کر انہیں سکول جانے پر آمادہ کرتے
ہیں کہ بس بیٹا ! دو چار دن کی تو بات ہے پھر تو لمبی چھٹیاں ہو جائیں گی۔ بچہ چھٹیوں کا نام سن کر خوش ہو جاتا ہے
اور دوبارہ سکول جانے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ وہ خوش ہو جاتا ہے کہ چند روز بعد اسے نہ تو صبح سویرے جاگنا
پڑے گا اور نہ ہی سکول جانے کی زحمت گوارا کرنی پڑے گی۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بڑے لوگ بھی چھٹی کے روز
دیر تک سونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ گویا تعطیل ہر بشر کے لئے خوشی کا پیغام لے کر آتی ہے۔ اور پھر طلباء کے لئے تو
یہ ایک نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں ہوتی۔ جس میں وہ خود کو ہر طرح کے بوجھ سے آزاد خیال کرنے لگتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی والدین کی ذمہ داری میں بھی قدرے افاقہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ صبح سویرے اٹھ کر بچوں کو سکول
کے لئے تیار کرنا اور وقت پر سکول پہنچانا ان کے معمولات میں شامل ہوتا ہے۔ اپنے ان معمولات سے وہ کچھ عرصے
کے لئے بے فکر ہو کر اپنی روز مرہ کی مصروفیات میں مگن ہو جاتے ہیں۔ لیکن جہاں تک بچوں کی ذمہ داری سے فراغت
پانے کی بات ہے وہیں ذی فہم والدین کے لئے طویل تعطیلات مزید پریشانی کا باعث بھی بن جاتی ہیں۔ کیونکہ ان تعطیلات
میں بچے کھیل کود میں مصروف ہو کر اکثر آموختہ کو بھول جاتے ہیں۔ پڑھائی سے غافل ہو جاتے ہیں۔ گلیوں اور محلوں
میں نا خواندہ اور آوارہ بچوں کے ساتھ مل کر نافرمان، ضدی اور بد اخلاق ہو جاتے ہیں۔ اس طرح بچوں کی تعطیلات میں

۲
میں نگرانی کرنا اور ان کی حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھنا والدین کی ذمہ داری میں مزید اضافے کا سبب بنتی ہے۔
ورنہ ان کا مستقبل تباہ ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کتنے والدین اپنی اس ذمہ داری کو بہتر
طریقے سے نبھا سکتے ہیں۔ پہلا مسئلہ تو خواندگی اور نا خواندگی کا ہے۔ تعلیم یافتہ والدین تو اپنے بچوں کی بہتر تربیت
اور نگرانی کر سکتے ہیں اور ان کی صحیح طریقے سے راہنمائی بھی کر سکتے ہیں لیکن نا خواندہ اور مزدور پیشہ والدین جو سارا
سارا دن قوتِ لایموت کی تلاش میں گھر سے باہر رہتے ہیں وہ بچوں کی دیکھ بھال ، نگرانی اور صحیح راہنمائی کیونکر کر سکتے
ہیں۔
ویسے بھی مسیحی قوم میں علم کے فقدان کے ساتھ ساتھ مفلسی ، بیماری اور بے روزگاری عروج پر ہے۔ ان حالات میں
والدین سے ان کی ذمہ داریوں کو بطریق احسن نبھانے کی توقع کرنا عبث ہے۔ تاہم ناممکن نہیں۔ بعض ناخواندہ والدین
بھی اپنے بچوں کی تعلیم پر بھر پور توجہ دیتے دیکھے گئے ہیں۔ کیونکہ وہ زمانے کے سرد گرم سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں
اور اپنے بچوں کا مستقبل بنانا چاہتے ہیں۔ جہاں تک والدین کی بچے کی زندگی کے دیگر پہلوؤں کے بارے میں ذمہ داریوں
کا تعلق ہے وہیں اخلاقی اور مذہبی تعلیم کا خیلا رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ خصوصاٌ مسیحی والدین کی ذمہ داریاں موسم گرما
کی تعطیلات میں اس کلئے بھی بڑھ جاتی ہیں کہ ان کے پاس بچوں پر ہمہ وقت نظر رکھنے کے لئے وقت کم ہوتا ہے۔
تاہم اگر ہمارے مذہبی رہنما اس سلسلے میں مسیحی والدین کے ساتھ تعاون کریں تو اس مسئلے پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا
ہے۔ مثلاٌ سنڈ ے سکول کا آغاز، شام کے وقت چرچ کمپونڈ میں کھیلوں کا اہتمام، بسا اوقات ادبی پروگراموں اور سیمینارز
کا انعقاد کر کے موسم گرما کی طویل تعطیلات کو با معنی اور مثبت مقصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ پروگرام بھی
اسی صورت میں کامیاب ہو سکتے ہیں جب والدین بچوں کو باقاعدہ اور مسلسل ان پروگراموں میں شرکت کا پابند بنائیں۔
اس طرح بچے درسی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم اور اخلاقیات سے بھی روشناس ہو سکتے ہیں۔ والدین بچوں کو
تعطیلات کا مقصد سمجھانے کی کوشش کریں اور انہیں بتائیں کہ تعطیلات محض وقت ضائع کرنے کا نام نہیں بلکہ ان
کو بہتر طور پر گذارنا اور اس دوران بہت کچھ سیکھنا ، تعطیلات کا اصل مقصد ہے۔ انہیں یہ بھی بتائیں کہ روزمرہ کے
معمولات میں ہم آہنگی قائم رکھنا ہی کامیاب زندگی کا راز ہے۔ ان تعطیلات میں سکول کی طرف سے دیا گیا کام بھی ہو سکتا
ہے اور کھیل کود کے لئے وقت بھی نکالا جا سکتا ہے۔موسم گرما کی تعطیلات میں والدین کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ بچوں
کو حسبِ استطاعت قریبی تاریخی مقامات کی سیر کروائیں جس سے ان کی معلومات میں خوطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
اور انہیں ذہنی تفریح بھی میسر آسکتی ہے۔ اس کے علاوہ مطالعہ کا شوق دلانے کے لئے درسی کتب سے ہٹ کر ادبی،
اخلاقی ،تاریخی اور مذہبی کتب بھی مہیا کریں ۔باتوں ہی باتوں میں انہیں وقت کی اہمیت کا احساس دلائیں۔ بچوں کو اخلاقیات
کا درس دینے کے لئے خود گھر پر موجودگی کے دوران اخلاقی کردار و گفتار کا مظاہرہ کریں۔ رات سونے سے پہلے ان کے ساتھ مل کر

۳

کے ساتھ مل کر دعا کریں۔ سونے سے پہلے انہیں بائبل مقدس سے کہانیا ں سنائیں۔ بچوں کے ساتھ ہمیشہ
دوستانہ ماحول میں بات کریں۔ چھوٹے موٹے نیکی کے کام کرنے کی ترغیب دیں۔ اس طرح مسیحی والدین اپنے
بچوں میں مسیحی ایمان کو مضبوط کر سکتے ہیں۔
گویا مسیحی والدین کے پاس تعطیلات کا یہ وقت ایک سنہری موقع ہے جس مین وہ اپنے بچوں کی پڑھائی میں مدد کرنے
کے ساتھ ساتھ ،مذہبی اور ذہنی نشو و نما بہتر طریقے سے انجام دے سکتے ہیں اور بچوں کے ساتھ مل کر تعطیلات
کا یہ دورانیہ مثبت اور مفید مقاصد کو پورا کرنے میں گزار سکتے ہیں۔

اقبال بسملؔ ۔ سانگھڑ۔سندھ

 

وفاقی ریا ستوں میں قومی یکجہتی کے فرو غ اور سیا سی استحکام میں سیاسی حرکیات (Political Dynamics) کا کر دار
تحریر از پرو فیسر کا مران جیمز شعبہ سیاسیات ایف سی کالج (چارٹرڈ یو نیورسٹی لاہور)

کسی مفکر نے کیا خوب کہا ہے کہ جمہوریت بد ترین نظام حکو مت ہو نے کے باوجود بہر صورت ا شرافیہ، بادشاہت ، فو جی آمریت اور پا رٹی
آمریت کے مقابلے میں قدرِ بہتر نظام حکو مت ہے ۔وفا قی ریا ستو ں میں حقیقی جمہو ری نظام ہی قومی یکجہتی (National Intergration) اور صوبائی ہم آہنگی (Provincial Harmony) نیز فر قہ وارانہ ہم آہنگی (Communal Harmony) کیلئے کلیدی کر دار ادا کرتا ہے ۔ با الفاظ دیگر جمہوری قوتو ں کے فروغ ، جمہوریت کے تسلسل ، پا رلیمنٹ کی بالادستی
آزاد عدلیہ کا قیام ، سیاسی استحکام اور سیاسی ادارو ں کے درمیان مو ثر اور مفید ہم آہنگی کے لئے سیاسی حرکیا ت(Political Dynamics) نہا یت اہم ، مو ثر اور کلیدی کر دار ادا کر تے ہیں ۔
جدید لبرل جمہو ریت (Modern Liberal Democracy) ایک ایسا نظام حکو مت (System of Government)
ہے جس میں چھوٹی بڑی تمام وفا قی اکائیوں (Federating Units) فر قوں ، رنگ ، نسل اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے لو گو ں کی بلا کسی تفریق سیاسی عمل (Political Process) میں شرکت لازمی قرار دی جا تی ہے ۔ دوسرے الفا ظ میں ہم اسے (Political Empowerment of the Masses) بھی کہتے ہیں ۔ یعنی ایک ایسا نظام حکو مت (system of Government)
یا جمہو ری عمل (Democratic Process)جس میں تمام لو گو ں کی بلا کسی تفریق حکو متی امو ر(State Affair)میں شر کت
لا زمی قرار دی جا تی ہے ۔
وطن عزیز میں ما ضی کی مارشل لا حکو متو ں کے دور میں سیاسی جماعتو ں پر پا بندی پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر پا بندیا ں اور سرکا ری کنٹرول ،
انتخابات کا مسلسل التوا، سیاسی قیادت کا غیر سنجیدہ رویہ اور ووٹرز (Electorates)کی سیاسی قیا دت سے ما یو سی ہی دراصل قومی یکجہتی کی
راہ میں سب سے بڑی رکا وٹیں رہی ہیں ۔ نیز چھو ٹے صوبو ں ، محروم طبقوں ، خواتین اور اقلیتوں میں ا حساس محرومی میں اضافہ کا سبب بھی
مندرجہ بالا وجو ہا ت رہی ہیں ۔
لہذا جمہوریت کے فرو غ اور سیا سی استحکام کیلئے سیا سی حرکیات (Political Dynamics)یعنی موثر سیا سی نظام متحرک سیاسی جماعتیں اعلیٰ سیاسی قیادت ، آزاد و خود مختار پارلیمنٹ ، آزاد عدلیہ ، آزاد اور ذمہ دار میڈیا اور ووٹرز میں سیا سی شعور کا ہو نا انتہا ئی ضروری ہے ۔
تب ہی خصوصاََ وفا قی ریا ستو ں میں سیا سی حر کیات قومی یکجہتی کے فرو غ اور سیا سی استحکام میں اہم کر دار ادا کر سکتے ہیں ۔
قومی یکجہتی کے فرو غ اور فر قہ وارانہ ہم آہنگی کے سلسلے میں مو جو دہ حکو مت اور ما ضی کی حکو مت کا طر یق انتخاب میں تبدیلی کا فیصلہ انتہا ئی
اہم ہے اس سے وفاق پا کستان میں بسنے والی مختلف اقلیتیں بھی قومی دھا رے میں شامل ہو گئی ہیں۔ اور امید واثق ہے کہ قومی سیاست
میں ایک اہم کر دار ادا کر سکتی ہیں ۔ اس سلسلے میں خصوصاََ مختلف سیا سی جماعتو ں کو ایک نہا یت اہم سیا سی محرک
(Political Dynamic)کا کر دار ادا کر نا ہو گا ۔
سیا سی مبصرین وفاقِ پا کستان میں مخلو ط طر یقِ انتخاب کو چند خامیو ں کے با وجو د پا کستان کے سیا سی کلچر (Political Culture)
اور (Political Socilization) نیز سیاسی پختگی( (Political Maturity تعبیر کرتے ہیں ترقی پذیر اور ترقی یا فتہ دو نو ں
صورتو ں میں وفا قیریا ستو ں کیلئے قومی یکجہتی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ۔ جہا ں کئی قومیتوں ، نسلو ں ، مذاہب اور فرقوں کے لو گ بستے ہیں وہا ں ایک ایسانظام حکو مت در کا ر ہو تا ہے ۔ جس میں تمام چھو ٹی بڑی وفاقی اکائیو ں ، تمام اقوام ، تمام نسلو ں ، تمام مذاہب ، اور فرقوں کی
سیا سی عمل میں شر کت یعنی ریا ستی اقتدار میں نہ صرف شر کت بلکہ حکو متی امور میں بلاکسی تفریق تمام لو گو ں کی شر کت (Participation in the Governmental Affairs)بلکہ (Political Empowerment)انتہا ئی لا زمی عمل ہے ۔
لہذا چھو ٹے صوبو ں ، نچلے طبقوں ، خواتین اور اقلیتوں کا قومی سیا ست میں کر دار انتہا ئی اہم ہے ۔ اور قائد اعظم محمد علی جنا ح کے سیا سی فلسفہ
کے عین مطا بق ہو نا چاہیے ۔ یقیناًعلاقائی تعصبا ت (Parochial Prejudices) صوبا ئیت پر ستی (Provincialism)
نسلی اور مذہبی تعصبات قومی یکجہتی کی راہ میں سب سے بڑی رکا وٹیں ہیں ۔ لہذا ایک مضبوط اور مر بوط سیا سی نظام اور سیا سی عمل ہی سے متعدد
سما جی ، سیاسی اور معاشی برائیوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے ۔ نیز قانون کی با لا دستی(Rule of Law) کو بھی تب ہی فرو غ ملے گا ۔
آج وفا قِ پا کستان کو مختلف اندرونی اور بیرونی چیلینجز کا سامنا ہے ۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کے اندرو نی چیلینجز یعنی دہشت گر دی ، فرقہ واریت ، صوبائیت پر ستی ، اقتصادی ابتری ، سما جی انصاف کی عدم دستیابی ، خواتین اور اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں
ریا ست کی جڑوں کو مزید کھو کھلا کر رہی ہیں ۔
یہ ایک حقیقت ہے کے ما ضی کی غیر جمہو ری ، آمرانہ سوچوں ، کمزور سیاسی عمل ، کمزور سیاسی ادارو ں ، کمزور حکومتی مشنری ، اور غیرجمہوری
روایات اور اقدامات کی بدولت ہی بیرونی قوتیں وفاقِ پا کستان میں اپنے مکروہ مقاصد کے حصول کے لئے سر گرم عمل رہی ہیں۔ اور وفا قِ
پا کستان کو مزید عدم استحکام کی جا نب دھکیل رہی ہیں ۔ بالآخر 1971ء میں وفاقِ پا کستان کے دشمن اپنے مزموم مقاصد میں کا میاب
ہو گئے اور پا کستان کا مشرقی بازو، تحریک پا کستان کے نامور شخصیتوں کی آماجگا ہ ’’مشرقی پا کستان ‘‘ہم سے الگ ہو گیا ۔
آج یہ سوال پیدا ہو تا ہے کے گزشتہ 60سالوں میں ہم نے بحیثیت پا کستانی قوم ما ضی کے تلخ تجر بات سے کچھ سبق سیکھایا پھر نہیں ؟
کیا آج سیاسی قیادت ، سیاسی جماعتیں اور ووٹرز اپنی ذمہ داری سے واقف ہیں؟ آج وفاقِ پا کستان جن اندرو نی اور بیرونی خطرات میں گھرا ہو ا ہے ۔ ان خطرات سے با ہر نکل کا واحد حل جدید لبرل جمہو ریت (Modern Liberal Democrasy)میں ہی ہے ۔
یعنی ایک ایسا نظام حکو مت کی تشکیل لا زمی ہے جس میں تمام تعصبات سے پا ک جدید جمہو ری سیاسی معاشرہ (Modern Political Liberal Society) یا دو سرے الفاظ میں حقیقی طور پر سیاسی منظم معاشرہ (Politicaly Organized Society)
کا قیام ممکن ہو سکے یا ایک آزاد اور خود مختار پا رلیمنٹ کو جو حقیقی عوامی امنگو ں کی سہی ترجمان ہو اور مکمل با لا دست حیثیت رکھے اور تمام فیصلے
پا رلیمنٹ کر ے۔
طویل ما رشل لا کمزور حکو متی مشنری ، کمزور جما عتی نظام ، کمزور سیا سی عمل ، کمزور جمہو ری ادارو ں اور غیر جمہو ری اقدامات کا ہی نتیجہ ہے کہ
وفا قِ پا کستان میں آج چھو ٹے صوبو ں میں احساس محرومی ، خواتین اور اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیو ں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ر یاست کے تمام مسائل کا حل وہا ں موجو د نظام حکو مت یا طرز حکو مت اور سیاسی تر قی
(Political Development)میں پنہا ہو تا ہے ۔اور اگر سیا سی نظام اور سیا سی عمل (Political Process)کمزور ہو تو
پو را سیا سی ، معاشی اور سما جی نظام سوشل سسٹم تبا ہی کی طرف گامزن ہو جا تا ہے ۔ دو سرے الفا ظ میں اگر سیا سی نظام (Political System)محض چند گرو ہو ں اور طبقوں کی با لا دستی پر مبنی ہو اور احتساب و تو ازن سے عا ری ہو تو پھر استحصال (Exploitation)
ایک یقینی امر ہے ۔
نہا یت افسوس کی بات ہے کہ آج وطن عزیز پا کستان میں نہ ہی پا رلیمانی نظام مو جود ہے اور نہ ہی صدارتی نظام مو جو د ہے ۔ کچھ سیا سی مبصرین اسے نیم پا رلیمانی نظام (Semi Parliamentary System)کہنے پر مجبور ہے ۔ اور کچھ اسے مضبوط صدارتی نظام
(Strong Presidetial System)سے منسوب کرتے ہیں ۔ اور بعض سیاسی مبصرین اسے مضبوط واحدانی ، صدارتی نظام یا پھر
مضبوط واحدانی نیم پا رلیمانی و صدارتی نظام کا مر بعہ قرار دیتے ہیں ۔جس میں شاید صوبا ئی خود مختا ری کی کو ئی گنجا ئش نہیں ۔
سیا ستدانو ں کے غیر سنجیدہ رویو ں غیر آینی غیر جمہو ری سوچو ں طویل مارشل لا اور سیاسی عدم استحکام اور کمزور سیا سی اداروں کی وجہ سے
سیا سی عمل اور فیصلہ سا زی کے عمل(Decision Making Process)میں عوام کی شر کت ایک عرصہ تک نہ ہو نے کے برابر رہی
ہے ۔ آج اہل اقتدار سے یہ بجاطور پر اُ میدکی جا تی ہے کہ وہ ابلاغ عامہ سیاسی جماعتو ں اور تدریسی کتب کے ذریعہ عوام کی ایسی سیاسی
تر بیت کر یں کہ وہ جان سکیں کہ آج کی جدیدفلا حی ریا ست میں ہر وفا قی اکا ئی کا شہری بلا امتیاز رنگ ، نسل ، مذہب اور فر قہ بالواسطہ طور
پر ٹیکسوں کی صورت میں اپنا حصہ ڈالتا ہے ۔ جہا ں سے سارے مُلک کے تمام انتظامات چلا نے کیلئے اخراجات پو رے کیے جا تے ہیں ۔
اس لئے بلا امتیاز، رنگ ، نسل اور مذہب ہر شہری اپنی اپنی اہلیت اور قابلیت کے مطا بق ملکی ذرائع اور وسائل سے مستفید ہو نے کا حقدار
ٹھہرتا ہے ۔
ہمیں قوی اُمید ہے کہ ایسی رو شن خیالی کے فرو غ سے مذہبی تنگ نظری نسلی اور علا قائی تعصبات کا خاتمہ ہو جا ئے گا ۔ اور قومی ہم آہنگی اقتصادی خوشحالی اور رواداری بڑے گی ۔ جس سے وطن عزیز پا کستان کو اندرونی اور بیرونی لحاظ سے استحکام ملے گا ۔ بلا شبہ وفا قِ پا کستان میں نسلی ، مذہبی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فرو غ میں سیا سی حرکیات یعنی سیاسی جماعتو ں ، سیاسی قیا دت، ووٹرز اور پھر پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کو ایک اہم مو ثر اور کلیدی کر دار ادا کر نا ہو گا ۔ یقیناًآج ضرورت اس امر کی ہے کہ بحیثیت پا کستا نی ہم سب بھی ہر قسم کے رنگ ، نسل ، مذہب فر قے اور صوبا ئی پر ستی سے با لا تر ہو کر قائد اعظم محمد علی جنا ح کے افکار کی رو شنی میں اپنے آپ کو مملکت خدادا د پا کستان کیلئے وقف
کر دیں۔ تب ہی بحیثیت ایک مظبوط قوم ہم اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا احسن انداز سے مقابلہ کر سکیں گے ۔

بلا شبہ جنا ح کا سیا سی فلسفہ قومی یکجہتی کے فرو غ میں ایک محرک (Dynamic)کا کردار ادا کر تا ہے ۔ یقیناًجنا ح کا سیا سی فلسفہ پا کستانی قوم
کیلئے ایک (Guiding Principle)کا درجہ رکھتا ہے ۔ نہا یت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے ۔ کہ جناح کی وفات کے ساتھ ہی
جنا ح کے سیا سی فلسفہ سے بالکل متضاد رویہ اختیار کیا گیا ۔ او ر ملک رو شن خیالی اور اعتدال پسندی کی بجا ئے انتہا پسندی اور فر قہ واریت کی
لپیٹ میں آگیا ۔
آج ملک کی تمام چھو ٹی اور بڑی سیا سی جماعتو ں اور سیا سی قیا دت پر ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ وفا قِ پا کستان میں قومی یکجہتی کے فرو غ اور
صوبا ئی ہم آہنگی کیلئے اپنا انتہا ئی مو ثر کر دار ادا کر یں ۔ نیز عوام الناس اور خصوصاََ ووٹرز (Electorates)پر بھی بھا ری ذمہ داری عائد
ہو تی ہے کہ وہ مختلف سطو ں پر اچھی اور مو ثر سیا سی قیا د ت کا انتخاب کریں ۔ تا کہ ہر قسم کی بنیاد پر ستی ، انتہا پسندی اور فرقہ واریت اور تمام
تعصبات سے پاک جدید جمہوری سیاسی معاشرہ (Modern Liberal Democratic Society)کا قیام عمل میں آ سکے ۔
وفاقی ریا ستو ں کا اگر تقابلی جا ئزہ لیا جا ئے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ امریکی وفاق کو مضبوط و مستحکم بنا نے میں تمام سیا سی حرکیات(Political Dynamic)یعنی سیاسی قوتو ں نے نہا یت اہم اور موثر کر دار ادا کیا ہے ۔ یقیناخانہ جنگی کے بعد امریکی قوم پہلے سے کہیں زیا دہ مضبوط
قوم بن کر سامنے آئی ہے ۔
آج امریکا میں بشمول دو نوں سیا سی جما عتو ں ، سیا سی نظام (وفا قی صدارتی نظام) ووٹرز (Electorates)اور پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی بدولت ہی امریکی کی وفاق میں تمام تضادات کے با وجود سیاسی استحکام حاصل کیا ہے ۔ بلا شبہ امریکی وفاق میں سیاسی استحکام
اور قومی یکجہتی کے فروغ میں سیا سی حرکیات(Political Dynamics)کا کردار انتہائی مو ثر رہاہے ۔
آج بلا شبہ وفا ق پا کستانی میں سیا سی استحکام اور قومی یکجہتی کے فرو غ میں سیاسی حرکیات کو اپنا انتہا ئی اہم ،مو ثراور کلیدی کر دار ادا کر نا ہو گا ۔
تب ہی وفا قِ پا کستان اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا نہا یت احسن انداز سے مقابلہ کر سکے گا ۔ آخر میں دعا ہے کے اللہ تعالی ہم سب کو یہ
تو فیق بخشے کہ ہم وطنِ عزیز پا کستان کی جغرافیا ئی اور نظریاتی سر حدوں کی حفا ظت کر سکیں ۔
آمین
پا کستان زند ہ باد
تحریراز
پروفیسر کا مران جیمز
شعبہ سیا سیات
بتاریخ :06-02-2010 ایف سی کا لج (چا رٹرڈ یونیورسٹی)

 

 


 

 

 
   

 home page - index

top               «      »