تیسری
دنیا کی
خُوشبُو
افتیؔ
جیم
فے غوری(اٹلی)
جُون کی
تیز دھوپ
میں ساحلِ
سمندر پر
رنگ برنگی
چھتری کے
سائے میں
نیم دراز
تھا. کہ
میرے
موبائل
فون کی
گھنٹی نے
مجھے
چُونکا
دیا.شگاگو
سے افتیؔ
کا فون تھا
اوروہ مجھ
سے ہی پوچھ
رہا تھا ،
کیا میں
جیم فے
غوری سے
بات کر
سکتا ہوں.افتیؔ
سے یہ میری
پہلی
ٹیلیفونک
گفتگو تھی.حالانکہ
وہ
پاکستان
کے شہر
فیصل آباد
میں پیدا
ہوا
،لڑکپن سے
جوانی تک
وہ فیصل
آباد میں
رہا. میں
آٹھ سال کا
تھا جب
سیالکوٹ
سے اس
صنعتی شہر
میں ہجرت
کی.میں
اکثر اسے
ادبی
محفلوں
میں
دیکھتا
رہا وہ شہر
کے وسط میں
آٹھ
بازاروں
میں سے
ہوتا ہوا
گھنٹہ گھر
کے آس پاس
گھومتا
رہتا. کبھی
وہ
جہانگیر
مرغ پلاؤ
ریسٹورنٹ
کے ہال میں
بیٹھا ہوا
نظر آتا.
لیکن
اتفاق کی
بات تھی کہ
اُس نے
میری طرف
کبھی
دیکھا تک
نہیں تھا.
ادبی
اجلاسوں
میں بھی وہ
سب سے آگے
براجمان
ہوتا اور
میں سب سے
پچھلی
نشست پر
بیٹھاہوتا
، وہ ادب
میں اس وقت
بھی بڑا
نام تھا
اور آج بھی
اس کو دنیا
بھر میں
لوگ ادب
اور t Activis اور
صحافی و
شاعرکے
طور پر
جانتے ہیں
جب اُس کے
ایک ادبی
دوست کو
اسی(۸۰) کی
دہائی میں
مذہب کے
نام پر بے
دردی سے
قتل کر دیا
گیا تو اس
نے احتجاج
کر تے ہوئے
نظم لکھی
جس کی
پاداش میں
اس پر فتوے
بھی لگائے
گئے. پھر
اچانک وہ
شہر سے
غائب ہو
گیا،
معلوم ہوا
کہ وہ
پاکستان
کو چھوڑ کر
امریکہ جا
بسا ہے یہا
ں پر جب اس
نے اپنے
اندر کے سچ
کا سرعام
اعلان کیا
کہ میں گے (Gay)
ہوں تو اس
کے دوست
احباب نے
پہلے اس کا
مذاق
اُڑایا
اور پھر
نفرتیں اس
کو تحائف
کے طور پر
ارسال کیں
جو اس نے
آسمان کی
طرف سے
قدرتی
آفات سمجھ
کر قبول
کیں.اور اس
کانٹوں
بھری دنیا
میں جینے
کا ہنر
سیکھ لیا .
اور آج اُس
کے ان
مشائدات
اور
تجربات نے
اس کو بلند
مقام عطا
کیا ہے.
وہ مجھے
ٹیلی فون
پر کہہ رہا
تھا غوری
بھائی
جولائی
میں تم جو
اردو ادبی
سمینار
اور
مشاعرے
اٹلی اور
سویئٹرزلینڈ
میں کروا
رہے ہو،
میں ان میں
پوری
تیاری کے
ساتھ شامل
ہونے کے
لئے آ رہا
ہوں.برطانیہ
سے صابر
رضا ؔ نے
میر ا
یوروپ کا
پروگرام
ترتیب دے
دیا ہے.
مجھے یقین
نہیں آ رہا
تھا میں نے
ریت پر پڑے
تانبے کے
برتن کی
طرف دیکھا
جس میں برف
کے چھوٹے
ٹکڑوں میں
ریڈ لیبل
پڑی تھی وہ
آدھی سے
زیادہ
ابھی بھری
ہوئی تھی.لہذا
یہ بالکل
سچ اور
حقیقت تھا
کہ وہ مجھ
سے ہی بات
کر رہا تھا.
میں اپنے
آپ کو ان
لوگوں میں
شمار کرنے
لگا جن کو
پیار
تھالی میں
سجا کر پیش
کیا جاتا
ہے میں نے
کبھی سوچا
نہیں تھا
کہ اردو
ادب میں
ایک
نمایاں
نام رکھنے
والے نرم
گو اور
مسکراتی
گفتگو
کرنے والے
شخص سے یوں
(۲)
راہ و رسم
ہو جائے
گی،
حالانکہ
پاکستان
میں ایک
شہر میں
رہتے ہوئے
ہم نے ایک
دوسرے کو
شخصی طور
پر جاننے
کی کبھی
کوشش نہ کی
. لیکن یہ
حقیقت ہے
کہ دانے
دانے پر
مہر والے
محاورے کی
طرح پیار
جس کے نصیب
میں
ہواُسے
ضرور ملتا
ہے.
میں اٹلی
کے شہر
میلان کے
مل پنسا ((Malpensa
ائیر پورٹ
پر اس کا
انتظار کر
رہا تھا.پھر
لوگوں کے
ہجوم میں
اسے میں نے
دیکھ لیا،
سرو قد،
گندمی رنگ
اور سیاہ
اورکوٹ او
ر پتلُون
اور سر پر
سیاہ ہیٹ ،
ہاتھوں کی
تمام
انگلیوں
میں
چمکدار
ہیرے کی
انگوٹھیاں
پہنے،
ڈھلتی
جوانی کا
مالک میرے
سامنے
کھڑا تھا.
رسمی سلام
دعا کے بعد
ہم دونوں
افضال
فردوس کا
انتظار
کرنے لگے
جس کی
فلائیٹ
آنے میں
ابھی تین
گھنٹے
باقی تھے.ہم
دونوں
آئرش پب کے
ایک کونے
میں بیٹھے
روایتی
بیئر پی
رہے تھے وہ
پب (Pub)میں
بیٹھے اور
آنے جانے
والے
لوگوں سے
بے نیاز
بیئر سے
لطف اندوز
ہو رہا تھا
اور میں
اردو،
عربی اور
فارسی
شاعری میں
استعمال
ہونے والی
تمام
تشبہات
اور
استعارے
یاد کرنے
لگا جو
شعراء نے
حسنِ ادا
کے لئے
استعمال
کیے ہیں
تاکہ اس کی
شخصیت کے
لئے کوئی
استعارہ
یا تشبیہ
استعمال
کر سکوں
آخرِکار
میں نے خو
شبو کا
انتخاب
کیا .
کیونکہ
خار دار
تاریں بھی
افتیؔ کی
خوشبوکو
میرے پاس
اٹلی آنے
سے نہ روک
سکیں.وہ
ایسی
خوشبو کی
مانند ہے
جو تیسری
دنیا کی
آلودہ
فضاؤں سے
نکل کر
پہلی دنیا
کی فضا کو
مہکا رہا
ہے. مگر
قسمت اُس
کی ایسی ہے.
کہ اُس کے
ہاتھ پاؤں
لوہے کی
کیلوں کے
زخموں سے
پُر ہیں ہر
روز وہ اِ
ن دیکھی
صلیب پر
چڑھایا
جاتا ہے.اور
ببول کے
کانٹوں کا
تاج اس کے
سر پر ہر
روز سجایا
جاتا ہے.
اردو ادبی
سمینار کے
دوران میں
نے اس کے
قریب رہنے
کی کوشش
کی، تاکہ
اس کی
شخصیت کے
اندر چھپے
ہوئے
بھیدوں کی
کھوج لگا
سکوں.میں
نے اسے
مغرب میں
پائے جانے
والے
انسانی
رویوں اور
طرز زندگی
میں ایک
عرصہ سے
رہنے کے
باوجود
بھی
برصیغر
پاک و ہند
کی تہذیب و
ثقافت اور
طرز زندگی
میں ملبوس
دیکھا.ایک
شام جب ہم
ایوب
خاورؔ کے
ساتھ شام
منانے کر
فارغ ہوئے
تو رات کے
کھانے کے
بعد
لڑکیوں نے
ڈھولک کی
تھاپ پر
پنجابی
لوک گیت
گانے شروع
کیے تو ہم
نے دیکھا
کہ افتیؔ
بے خود ہو
گیا اور
عالم
ورافتگی
میں ناچنا
شروع کر
دیا.یہ اس
کی حسنِ
ادا تھی.اس
کے اندر
چھپی
نسوانیت
کا برملا
اظہار تھا
جس کا
اقرارکرنے
میں اسے
ذرا بھی
تامل نہیں
ہے.کہ وہ
مرد کے جسم
میں ایک
ایسی جنس
ہے جو عاشق
بھی ہے اور
محبوب بھی
ہے. برصیغر
پاک و ہند
میں ایسے
انسان کو
تیسری
مخلوق کہہ
کر
(۳)
دھتکار
دیا جاتا
ہے اور
معاشرے
میں اس کا
کام ناچ گا
کر لوگوں
کا دل
بہلانا
،بیہودہ
مذاق اور
طعنہ و
تشنیع کے
مظالم
برداشت
کرنا ہوتا
ہے. اپنے
معاشی،جسمانی،
ذہنی اور
جنسی
استحصال
پرخاموش
رہنا ہوتا
ہے لیکن
افتیؔ نے
کامل جرات
سے اپنی
شناخت کو
مسمار
نہیں ہونے
دیا بلکہ
اس شناخت
کے بل بوتے
پر ایک
خوبصورت
شاعر،زندہ
دل صحافی
،دانشور
اور ایک
اچھے
انسان کو
پوری دنیا
میں
متعارف
کروایا ہے
اور پوری
دنیا میں
اس ظلم کے
خلاف آواز
اٹھائی
اوریوں آج
وہ جنگ اور
استحصال
کے خلاف
ایک بھر
پور اور
تواناآواز
بن کر
ابھرا ہے
اس کا خواب
ہے دنیا
میں رنگ و
نسل اور
مذہبی
تفریق ختم
ہو جائے
اور دنیا
امن و محبت
اور انصاف
کا گہوارہ
بن جائے.
اس کو صنفِ
نازک اور
مردانہ
جذبات کو
پوری
سچائی کے
ساتھ بیان
کرنے میں
مہارت
حاصل ہے.
وہ
پاکستان
کے بے
ترتیب
شہروں سے
ہوتا ہوا
گاؤں کی
ناہموار
کچی سڑک پر
سفر کے
دوران
دھچکوں کے
تجربات سے
گذرتا ہوا
امریکہ کی
ہموار اور
رواں
شاہراہوں
پر سفر کے
احساس کو
بھی اپنی
شاعری میں
بیان کرتا
ہے اس کا
ذہنی اور
جسمانی
سفر اب بھی
جاری و
ساری ہے
اردو ادب
میں اس نے
ایک نیا
سنگ میل
گاڑھ دیا
ہے جو
تحقیق و
تنقید
کرنے
والوں کے
لئے بے
شمار نئے
جہانوں کی
طرف اشارہ
کرتاہے.
اپنی
غزلوں کی
ایک سی ڈی
کے کور پر
اس نے لکھا
ہے، ’’ڈاکڑ
عذرا رضا
کے لئے ‘‘ کہ
میں
تمہارا
لعزرس (Lazarus)
ہوں.یہ
بائبل کے
نئے
عہدنامہ
کی کتاب
یوحنا میں
یوحنا نبی
کی بیان
کردہ
سچائی ہے
کہ یرو
شلیم کے
بیت عنیا
نامی گاؤں
کی رہنے
والی دو
بہنوں کا
اکلوتا
بھائی
لعزر
بیماری کی
وجہ سے
وفات پا
گیا.ان
بہنوں کی
آہ و فریاد
اور التجا
سُن کر
یسوع نے
چار دن کے
مرے ہوئے
لعزرؔ کو
قبر میں سے
زندہ کر
دیا تھا.افتیؔ
نے اپنی
ایک نظم
میں لکھا
ہے کہ کوئی
کتابِ
مقدس مرے
واسطے
اپنے
اوراق میں
کوئی لفظِ
محبت
دکھاتی
نہیں ہے.لیکن
مجھے پورا
یقین ہے کہ
اُس کی پاک
دامن
بہنوں کی
دعا ہیں
رائیگاں
نہیں گئیں.
اسے اُوپر
والے نے
نئی زندگی
دی کہ جہاں
اُس کے
اپنوں نے
اسے قبول
کرنے سے
انکار کر
دیا، وہاں
سے نکال کر
اس جگہ پر
لے کر
گیاجہاں
دھتکارے
ہوئے اور
اپنوں کے
ٹھکرائے
ہوئے
انسان کے
لئے دودھ
اور شہید
کی ندیاں
بہتی ہیں
اور آج
جہاں سے وہ
اپنے
الفاظ کے
ذریعے
دکھی
انسانیت
کو زندگی
کی بشارت
دے رہا ہے.
جیم فے
غوری(اٹلی)