S A C W A

SOUTH ASIAN CHRISTIAN WRITER'S ASSOCIATION

A Forum of Writers, Intellectuals, Journalists and critics

 
 
 
Guest Books
 

 

Fatima Bhutto’s book : Fact or Fiction??

Dr Ayesha has never failed to impress me. She has rightly pointed out that BB was not a leader because of her father, she was a leader due to her own struggle. Murtaza Bhutto thought it was his right as a man and Fatima Bhutto resented that her family property (i.e. government) had gone to her aunt.

Wake up Fatima! Your aunt’s politics did not revolve around anger against you! We think you are too bright to stoop to that level. Our well wishes are with you.(Comments by Fayyaz Alam)

Fact or Fiction?

By Dr. Ayesha Siddiqa

Is she just a sad child mourning her father? Is she a young woman angry with a cruel and unjust system and pointing out its faults? Is she the future of Pakistan’s politics? Or is she part of fiction being written by a hidden hand for the future of Pakistan, but made to look like fact?

These are some of the questions that come to mind when observing Fatima Bhutto.

Answering these questions, in any case, are difficult in an environment where telling fact from fiction has become tedious. Fatima Bhutto is certainly trying to create an alternative narrative which may one day lead her to power. She doesn’t seem alone in her effort but seems to be helped by important people who introduce her to policy-making circles in the US and other capitals of the world. Fatima, these people believe, is the future of the PPP. But then she denies having any desire for power.

Murtaza Bhutto’s daughter says she does not want to follow her aunt Benazir Bhutto and become a part of dynastic politics. One is tempted to feel tenderly towards the young lady who probably has little knowledge of how dynastic politics operate. The magic is not just in the name but in a person’s ability to connect with people and become a force which can deliver, though imperfectly. She probably doesn’t realise that it was not her father or uncle or even her sole surviving aunt who represented Bhutto’s legacy.

It was Benazir Bhutto alone, who, for the people, represents the legacy of political empowerment. Had dynastic politics been as Fatima imagines, the people of Larkana would have obliged Zulfikar Ali Bhutto Jr and voted for Ghinwa particularly after Benazir’s death. People connect with Benazir Bhutto — the woman who went to jail, led processions and went on hunger strikes during General Zia’s dictatorship.

This was the time when Fatima’s father was busy creating his imagined revolution. Perhaps, she echoes the anger and disappointment of her father who could not displace his sister after he returned to the country. Murtaza Bhutto never regained sanity and was a liability for the government and the local bureaucracy. Surely, Fatima is mistaken when she sees him as a victim. But Murtaza’s daughter is certainly no simpleton. She is consciously part of the fiction which is being created around her: a young Bhutto who denounces dynastic politics and disagrees with all that her aunt stood for.

At home in Karachi, she uses her Bhutto name and Zulfikar Ali Bhutto’s relics to draw the intelligentsia and local and foreign media into a conversation. Despite all her rhetoric about democracy and shunning of elite politics, she is a symbol of that very system. Hopefully, Fatima realises that people are attracted into a conversation with her not just due to her pretty face and demeanour but because of her brand name. Unfortunately, she is party to the nefarious plan to replace the memory of Bhuttos that many amongst the elite would like to hate.

The older Bhutto and his daughter represent a political legacy that no one may be able to replicate. Both Bhuttos were similar. The British High Commissioner in Pakistan during the mid-1960s, Sir James Morrice, described the older Bhutto as “a lucifer, a flawed angel”. But both the father and daughter were like Marlowe’s Dr Faustus — victims of their own intellect.

Nevertheless, they are remembered for their ability to connect with ordinary people. What distinguishes Benazir from other leaders including female political icons such as Golda Meir, Indira Gandhi and Margaret Thatcher is her ability to keep the woman in her alive. More importantly, she was a doting mother and a kind aunt who facilitated Sassui Bhutto’s US citizenship, and her studies there.

Benazir even reached out to Fatima despite the latter’s anger. At this juncture, one can sympathise with Fatima and advise her not to build her fame on the dead body of her aunt.

Source : Daily Express Tribune

  لہو اور تلوار کے گیت: فاطمہ بھٹو کی نئی کتاب
نثار کھوکھر



پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی اور میر مرتضیٰ کی بیٹی فاطمہ بھٹو نے اپنی یادداشتوں پر مبنی ایک نئی کتاب، لہو اور تلوار کے گیت، ایک بیٹی کی یادیں، کے نام سے لکھی ہے۔ کتاب کی تقریب رونمائی منگل کی شام کراچی کے علاقے کلفٹن میں ہو گی۔
فاطمہ بھٹو کی نئی کتاب انکی یاداشتوں پر مبنی ہے۔
فاطمہ بھٹو کے سیکریٹری حمید بلوچ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فاطمہ بھٹو کی تازہ کتاب چار سو ستر صفحات پر مشتمل ہے جو لندن کے ایک اشاعتی ادارے جوناتھن کیپ نے شائع کروائی ہے۔ فاطمہ بھٹو نے اپنی تازہ کتاب میں اپنی علیل دادی بیگم نصرت بھٹو اور والدہ غنویٰ بھٹو کے نام کی ہے۔
فاطمہ بھٹو کی کتاب کی تقریب رونمائی کلفٹن میں اس جگہ کے قریب منعقد کی جا رہی ہے جہاں انیس سو چھیانوے میں فاطمہ بھٹو کے والد میر مرتضی بھٹو کو ایک پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔
فاطمہ نے کتاب کے سرورق پر بھٹو خاندان کی ان تمام شخصیات کے نام دیے ہیں جن کو مختلف ادوار میں ہلاک کیا گیا ہے۔ ان میں سب سے پہلے ذوالفقارعلی بھٹو کا نام ہے جن کو انیس سو اناسی میں فوجی دور حکومت میں پھانسی دے دی گئی، دوسرے نمبر پر شاہنواز بھٹو جو انیس سو پچاسی میں قتل ہوئے، تیسرے نمبر پر فاطمہ کے والد میر مرتضیٰ بھٹو جو انیس سو چھیانوے میں ہلاک کیے گئے اور آخر میں بینظیر بھٹو کا نام دیا گیا ہے جنہیں دو ہزار سات میں ہلاک کیا گیا۔
فاطمہ بھٹو نے اس سے قبل دو کتابیں لکھی ہیں جن میں ایک شاعری کی کتاب اور دوسری پاکستان میں آنے والے زلزلے کے متعلق ہے۔
فاطمہ بھٹو اپنی کتاب کی تقریب رونمائی کے لیے دو دن بعد انڈیا جا رہی ہیں جہاں وہ دلی، ممبئی اور دیگر شہروں میں کتاب کے متعلق تقاریب میں شرکت کریں گی۔ کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں لندن میں بھی تقاریب منعقد ہوں گی۔

ایک سیاسی قدم یا پھر کچھ اور۔۔۔
ہارون رشید
کیا وہ بھی سیاست میں آنے کی تیاریاں کر رہی ہیں؟ کیا وہ اسی مقصد کے لیے اپنا راستہ ہموار کر رہی ہیں؟ کیا وہ بھی پاکستان میں روایتی موروثی سیاست کا ایک نیا موڑ ہوں گی؟ ان تمام سوالات کے جواب مرتضی بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو کی پہلی سیاسی کتاب میں تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن یہ بےسود رہی۔
فاطمہ بھٹو پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی ہیں
ابھی ان کی والدہ غنوی بھٹو اگرچہ سیاسی میدان میں کافی تگ و دو کے بعد تھکی تھکی خاموش ہیں لیکن ان کے والد کا اصل سیاسی جان نشین شاید ان کے چھوٹے بھائی ذوالفقار جونئیر ہوں۔ فاطمہ نے جان بوجھ کر یہ کارڈ شاید اسی لیے اپنے سینے سے لگا رکھا ہے یا پھر یہ سوالات شاید قبل از وقت ذہن میں ابھر رہے ہیں۔
پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی اور میر مرتضیٰ کی بیٹی فاطمہ بھٹو کی اپنی یادداشتوں اور انٹرویوز پر مبنی لہو اور تلوار کے گیت، ایک بیٹی کی یادیں کے نام سے لکھی کتاب مختلف پہلوں کی وجہ سے دلچسپ ہے۔ کئی باتوں پر سے پردہ اٹھتا ہے جبکہ اس خاندان کے اندر کھچاؤ اور آنے والے وقتوں کا پتہ دیتی ہے۔
کتاب کے آغاز میں ہی فاطمہ نے بڑی خوش اسلوبی سے اپنی ذاتی پسند اور ناپسند واضح کرتے ہوئے سیاسی حریف کا بھی فی الوقت تعین کر دیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری کے لیے ان کے پاس کوئی اچھی باتیں لکھنے کو نہیں تھی۔اس ناپسندیدگی کا زیادہ پس منظر سیاسی ہے۔ یہ ماضی میں کافی دور تک پھیلی ہوئی ہے۔
میر مرتضیٰ بھٹو نے انیس سو اٹھاسی کے انتخابات میں زرداری کو لیاری سے پارٹی ٹکٹ دینے کی شدید مخالفت کی تھی لیکن ان کی بہن نے ایک نہ سنی تھی۔ یہ صدر ہی تھے جنہوں نے میر مرتضیٰ بھٹو کی ہلاکت کی خبر ایک پریشان فاطمہ کو ٹیلیفون پر سنائی تھی۔ شاید اسی وجہ سے انہوں نے آصف کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ خاندان کی ایک ایسی شخصیت تھیں جنہیں کوئی بھی پسند نہیں کرتا تھا۔
اس کتاب میں تنقید کا نشانہ محض صدر زرداری ہی نہیں بےنظیر بھٹو مرحومہ بھی رہی ہیں۔ ان پر تنقید میر مرتضی کو وطن واپس لوٹنے سے منع کرنے اور شاہنواز بھٹو کے قتل کا مقدمہ دوبارہ نہ کھولنے کی وجہ سے کی ہے۔
لیکن آج کل خود مغرب میں بسنے والی فاطمہ نے اپنی کتاب میں ایک نئی تھوری پیش کرنے کی ہے اپنے والد اور چچا کے مارے جانے کی۔ اشاروں اور کنائیوں میں بات کرتے ہوئے ان کا مفروضہ شاید یہ ہے کہ ان کی پھوپھی محترمہ بے نظیر بھٹو مغرب کی آنکھوں کا تارا تھیں جبکہ والد اور چچا کبھی مغرب نواز نہیں رہے۔
فاطمہ کے مطابق وہ سیاست سے زیادہ لکھنے پڑھنے میں دلچسپی رکھتی ہیں
یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ شاہنواز اور میر مرتضیٰ بھٹو نے اپنی جلا وطنی کے دوران کبھی امریکہ یا برطانیہ میں طویل مدتی قیام کے بارے میں نہیں سوچا۔ بھٹو برادران نے تاہم فرانس میں شاہنواز کی زندگی کے آخری ایام میں قیام ضرور کیا۔
کتاب لکھنے والا ہمیشہ اپنا موقف واضح کرنے کے لیے یہ کوشش کرتا ہے۔ اس کتاب میں اگرچہ فاطمہ نے الذولفقار تنظیم کی موجودگی سے تو انکار نہیں کیا لیکن جنرل ضیاء الحق کے دور میں پی آئی اے کے مسافر بردار طیارے کے کابل اغوا میں میر مرتضی بھٹو کے ملوث ہونے کے تاثر کی نفی ضرور کی ہے۔
ان کا لکھنا ہے کہ ہائی جیکروں کا سرغنہ صلاح الدین ٹیپو کا الذولفقار سے کچھ لینا دینا نہیں تھا اور اس نے یہ کارروائی خود ہی کی۔ کتاب میں اس کے بارے میں میر مرتضیٰ کے ایک قریبی ساتھی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ (ٹیپو) خود ہمارے پاس آیا تھا۔
الذولفقار میں شمولیت کے لیے ضروری تھا کہ تنظیم کے رہنما کسی کا انتخاب کریں ناکہ وہ خود شامل ہو۔
کتاب میں ایک اور دلچسپ بات فاطمہ کا یہ کہنا ہے کہ بےنظیر بھٹو نے اب بدنام زمانہ امریکی سکیورٹی کمپنی بلیک واٹر سے انتخابات کے دوران ان کی سکیورٹی کے لیے رابطہ کیا تھا تاہم کمپنی نے اپنی خدمات فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
فاطمہ کا کہنا ہے کہ ان کا تاہم ایک انٹرویو میں کہنا ہے کہ وہ سیاست سے زیادہ لکھنے پڑھنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ صحافی اور لکھاری ہی ان کے ہیرو رہے ہیں۔ لیکن پاکستان میں موروثی سیاست اتنی ظالم ہے کہ آج کے بہت سے سیاستدانوں کو اپنی جانب بل آخر کھینچ ہی لیتی ہے۔ یہ لوگ اگر سیاست کی بجائے آج کچھ اور مصروفیت رکھتے تو شاید زیادہ نام کما لیتے۔ یہی حال کیا فاطمہ کا بھی انتظار کر رہا ہے؟


 

 

 
   

 home page - index

top               «      »