S A C W A

SOUTH ASIAN CHRISTIAN WRITER'S ASSOCIATION

A Forum of Writers, Intellectuals, Journalists and critics

 
 
 
 Historical Christian Village


(۱) تحقیق و تحریر : اقبال بسملؔ سانگھڑ سندھ
 سینٹ ایذیڈور
صوبہ سندھ کا اکلوتا مسیحی ،تاریخی اور مثالی گاؤں،سینٹ ایذیڈور، المعروف ’’پادری جو گوٹھ‘،سانگھڑ۔
جب مکھی کے علاقے میں نارے(دریا کا ایک بڑا پاٹ) کے مغربی حصّے میں پانی خشک ہونے لگا اور پانی کی چادر چھوٹے چھوٹے ٹیلوں اور پانی کی ٹکڑیون میں تبدیل ہونے لگی اور پانی نے نارے کے اوپر کی طرف جمع ہونا شروع کیا اور یہ عمل کئی سال تک جاری رہا،دوسری طرف مکھی جھیل(ڈھنڈ) کا آخری ھصّہ ،جہاں سانگھڑ اور دیگر آبادیاں واقع ہیں اور جنہیں بچانے کے لئے جام داتار سے لے کر عمر کوٹ تک بچاؤ بند تعمیر کیا گیا، کی طرف کا پانی خشک ہونے لگا تو بان واہ سے نکالی گئی شاخوں (نہروں) کے ذریعے اس حصے کو 1929-30ء کے بعد زرعئی زمینوں میں تبدیلکیا گیا اور انگریزوں نے یہ زمینیں ریٹائرڈ فوجیوں اور بلوچستان سے آئے ہوئے بلوچیوں میں تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ اسی علاقے میں انگریزوں کی حروں کے ساتھ گوریلا جنگ ہوئی تھی جن کے کہنے کے مطابق حکومت
counterمقابلہ کرنا چاہتی تھی۔
مکھی کا بچاؤ بند ، موجودہ سانگھڑ سے سات آٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر شمال کی طرف تھا جس کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ ان تمام علاقوں میں لئی اور سرکنڈے کے گھنے جنگلات تھے جہاں بھیڑئیے اور گی دڑ
موج مستیاں کرتے تھے۔ سانگھڑ سے وہاں تک جانے کے لئے اکیلا آدمی خوف محسوس کرتا تھا۔اس لئے کئی لوگ وہاں تک جانے کے لئے گھوڑے کی سواری استعمال کرتے تھے جو تقریباٌ آدھے گھنٹے میں بچاؤ بند تک پہنچا دیتے تھے۔
یہ تو تھا مکھی کے علاقے کا احوال۔چلیں انہی دنوں میں اس علاقے میں جنم لینے والے ایک انوکھے گاؤں کا ذکر کریں جسے اس عرصے میں بھی جدید منصوبہ بندی کے تحت تعمیر کیا گیا،جس میں بنائے گئے گھر قطاروں میں ،کشادہ گلیوں کے ساتھ چرچ، اسکول ، اسپتال، پوسٹ آفس اور مویشی خانہ بھی بنایا گیا تھا۔ یہاں سے گذرنے والے ہر شخص کا منہ حیرت سے کھلا رہ جاتا اور وہ بے ساختہ کہہ اٹھتا
’’واہ ! انگریز صاحب کا ایسا گاؤں!‘‘۔
ہندوستان میں انگریزی حکومت قائم ہونے کے بعد عیسائی مشنریوں نے بھی یہاں ڈیرہ جمایا اور پورے جوش و خروش سے اپنی تبلیغی سر گرمیاں شروع کیں۔ سب سے پہلے شمالی ہندوستان کو مرکز بنایا،اس کے بعد پورے ملک میں پھیل گئے۔ خاص طور پر سری لنکا اور گواؔ جیسے علاقوں کے عوام پر ان کی تبلیغ نے گہرا اثر چھوڑا۔ ان کا سب سے بڑا فرقہ رومن کیتھولک تھا۔ جس کا واسطہ پاپائے روم سے ہے۔ انہوں نے شمال مغربی علاقوں کے بعد دکن کے مغربی علاقوں کا رخ کیا۔ ان کی تبلیغ کا نشانہ اکثر وہ لوگ ہوتے جن کے پاس شعور اور تعلیم نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ ان کا گذر بسر صرف زمین
پر تھا۔یا پھر وہ لوگ تھے جن کے غیر مسلم ہونے کے سبب ان کے ساتھ کھانے پینے سے پرہیز کیا جاتا تھا۔ ایسے افراد سماجی طور پر Isolated(دھتکارے ہوئے) ہوتے تھے۔ عیسائی مشنریوں کی طرف سے 1947ء میں شائع کردہ کتاب In the land of Sindhis and Balochis. میں لکھا ہے کہ ایسے لوگوں کی اکثریت شہروں، رستوں اور ریلوے اسٹیشنوں سے دور آباد ہوتی تھی۔ یہ لوگ زراعت کے کام میں مہارت رکھتے تھے۔ کئی افراد روزگار کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکتے پھرتے تھے۔یا پھر زمین یا سرمایہ داروں کے قرض سے تنگ آ کر رات کی تاریکی میں بھاگ کر جان بچاتے تھے۔ ان میں اکثریت پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔پس پادریوں کے سحر نے ان پر بھی اچھا خاصا اثر ڈالا اور انہوں نے مذہب کو ترک کیا۔ اس طرح خشونت سنگھ اور امرتا پریتم
کے ملک کے رہائشی ، منیر نیازیؔ اور فرازؔ کے ملک کے لاڈلے ، آبادی کے بڑھتے دباؤ اور اپنے ملک کے لوگوں کو انگریزوں کی طرف سے سندھ میں ملنے والی زمینوں کے سبب بوریا بستر سمیٹے سندھ کا رخ
کیاجہاں پہنچ کر ان لوگوں نے ادھر ادھر ڈیرہ جمایا۔ انہی میں سے کچھ خاندان مکھی کے علاقے میں خیمہ زن ہوئے اور کچھ سانگھڑ کے آس پاس بھی آباد ہوئے۔ پگ سنگھ، کچھ پڑوسی عیسائیوں کو گورداسپور سے لے آیا ،جس کی زمین موجودہ نواب اکبر بگٹی کی جاگیر سے شمال کی طرف تھی۔ آج بھی یہ گوٹھ ’’پگ‘‘ کے نام سے مشہور ہے جہاں اس وقت چاکرانیوں کے گھر آباد ہیں۔
دوسری طرف جولائی 1935ء میں پاپائے رومؔ کی طرف سے ڈچؔ Dutchقوم سے تعلق رکھنے والے فرانسسکن پادریوں کو سندھ میں تبلیغ کے لئے بھیجا جنہوں نے اپنا پہلا قدم کراچی میں رکھا۔
فرانسسکن کا تعلق سینٹ فرانسس سے ہے جو 1182ء میں اٹلیؔ کے شہر اسیسیؔ میں پیدا ہوا۔ ابتداء میں وہ عیش و عشرت کا شوقین تھا ۔ بیس بائیس سال کی عمر میں وہ مذہب کی طرف راغب ہوا اور ایک عیسائی روایت کے مطابق اسے الورناؔ پہاڑ پر عبادت کے دوران پانچ مقدس نشانات ملے۔ وہ پوپ کی طرف سے مقرر کردہ اصولوں پر عمل کروانے کا ذمے دار تھا۔ اس نے راہبات کا پہلا ادارہ بھی قائم کیاجن کا کام رضا کارانہ طور پر بیمار لوگوں کی خدمت کرنا تھا۔ سینٹ فرانسس نے 1926ء میں وفات پائی۔ کراچی کے بعد سندھ میں حیدر آباد کو مرکز ٹھہرایا گیا۔ اس کے بعد پورے سندھ اور بلوچستان میں مذہبی تبلیغ زور پکڑتی گئی۔ اس وقت بھی ان کا نشانہ یہی دھتکارے ہوئے لوگ ہی تھے۔ سال 1936-37ء میں انہوں نے سانگھڑ مین قدم رکھا۔ یہاں کہیں کہیں انہیں اپنے ہم مذہب
لوگ بھی ملے جو پنجاب سے آئے تھے۔ ان کی طرف سے فرمائش کی گئی کہ کہیں ایک جگہ رہنے کے لئے زمین خرید کر دی جائے۔ اس طرح ان عیسائیوں کی فرمائش مکھی والے اس علاقے کی زمین کی شکل میں پوری ہوئی۔چار سو ایکڑ یکجا زمین کا یہ ٹکڑا مکھی جھیل کے اختتام پر بچاؤ بند کے قریب تھا۔ جس میں کئی جگہ زمین خشک اور کئی جگہ پانی کی جھیلیں تھیں۔ ہر طرف لئی اور سرکنڈے کا گھنا جنگل تھا
یہاں سے ایک اور چھوٹا ،سانپ کی طرح بل کھاتا تین چار کلو میٹر لمبا راستہ پلھن کے ٹیلے والے جنگل تک جاتا تھا۔ جس کا نام ’’نانگ وارو دڑو‘‘ تھا۔ جہاں آج کل گوٹھ ’’کیوڑو ملاح‘‘ آباد ہے۔ سانگھڑ سے آتے ہوئے کوئی شخص میان گوٹھ سے گزرتے ہوئے اس نانگ وارے دڑے سے پلھن کے دڑے تک جاتا تھا۔ جہاں اس کے عزیز و اقارب آباد تھے۔ شائد اس جگہ کچھ وقت پہلے پانی کا چھوٹا دھارا بہتا ہوگالیکن انگریزوں کی طرف سے نارے کے دوسری طرف بڑا بند باندھ کر ،نارے سے نہریں نکالی گئیں، برساتی نالوں کو بند کر دیا گیا،اس طرح مکھی جھیل کا نقشہ ہی بدل گیا۔
اس وقت چار سو ایکڑ پر مشتمل زمین کا یہ ٹکڑا دیہہ باکھوڑو میں ’’تھیو ڈور‘‘ نامی عیسائی کی ملکیت تھا۔ وہ ان میں سے کچھ ایکڑ ہی آباد کر سکا تھا۔ باقی حصے پر جھاڑیوں اور درختوں کے جھنڈ تھے۔ اس کے نزدیک کوئی ٹوٹا پھوٹا بنگلہ بھی نہ تھا۔ اکتوبر 1838ء میں یہ زمین عیسائی مشنریوں نے خرید لی۔ آبادی کے لئے جنگل میں زمین ہموار ہونے کے سبب ’’تھیو ڈور ‘‘ کے دل میں لالچ پیدا ہوا اور 1939ء
میں اس نے حیدر آباد سول کورٹ میں کیس داخل کر دیا کہ مشنریوں نے مجھے ڈرا دھمکا کر زمین حاصل کی ہے لیکن وہ کیس ہار گیا۔ اب عیسائی مشنریوں کی طرف سے یہ منصوبہ بنایا گیا کہ اسخریدی


(۲)
گئی زمین پر ایک زرعئی کالونی قائم کی جائے تا کہ عیسائی مذہب والوں کے لئے کالونی کے ساتھ ساتھ ان کے ذریعے غیر آباد زمین کو بھی آباد کیا جائے۔ اس زرعئی کالونی کا نام’’ سینٹ ایذیڈور ‘‘تجویز
کیا گیاجو بعد ازاں ’’پادری جو گوٹھ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔’’ سینٹ ایذیڈور ‘‘ عیسائیوں کے نزدیک زرعئی معاشرے کی علامت ہیجو 560ء میں اسپین کے شہر Sevillie میں پیدا ہوا۔وہ خود بھی
ہاری پیشے سے تعلق رکھتا تھا۔ بعد ازاں مذہب کی طرف راغب ہوا۔۔پھر وہ اسپین کے چرچ کی قانون ساز کونسل کا صدر بنا۔ اس نے 636ء میں وفات پائی۔ ہر سال 4؍ اپریل کو گندم کی کٹائی کے
موقع پر گوٹھ کے لوگ اس کا مجسمہ اٹھا کر اور فصلوں میں گھوم کر اس کی عید مناتے تھے۔
نومبر 1938ء میں حیدر آباد سے پادری(فادر) ہرمس کو باقاعدہ رہائش کے لئے بھیجا گیا۔ کچھ دن بعد فادر ٹوبائس بھی پہنچ گیا۔ فادر ٹوبائس خود کوڈر پکڑ کر عیسائی ہاریوں کی تجویز کردہ گوٹھ کو بنانے میں مصروف ہو گیا۔ جبکہ فادر ہرمس گوٹھ کے مذہبی معاملات کو سنبھالنے لگا۔ انہی دنون سب سے پہلے جو عیسائی خاندان یہاں آباد ہوا وہ پگ سنگھ چئیرمین کے نام سے لا کر آباد کیا گیا۔ جن میں گنگو ، سلطان پیٹر ، طفیل وغیرہ کے خاندان شامل تھے۔ ان میں بونافاس ولد گنگو کا نام پیدائش کے رجسٹر میں پہلا نام ہے۔ اس لئے کہ وہ پہلا بچہ تھا جو یہاں پیدا ہوا۔ پورا خاندان درزی کا کام کرتا تھا۔ اس طرح 1938ء میں سینٹ ایذیڈور گوٹھ کی بنیاد رکھی گئی۔ بعد ازاں فیصل آباد ،ٹوبہ ٹیک سنگھ وغیرہ سے تعلق رکھنے والے خاندان آباد کئے گئے۔ سب سے پہلے یہاں ڈاکوؤں کے بنگلے کی مرمت کر کے چرچ تعمیر کیا گیا۔ اپریل 1939ء میں ایک نئی طرز کا چرچ اور کاہنوں کی رہائش گاہ تعمیر کی گئی۔ اس طرح سینٹ ایذیڈور باقاعدہ گوٹھ بن گیا۔ اس کے ساتھ ہی بھینسوں، گائیوں،بیلوں اور گھوڑوں کا باڑہ بنایا گیا۔ جو پادریوں کی ملکیت تھا۔ سینکڑوں کی تعداد میں یہ مال مویشی صبح سے ہی جنگل میں چلے جاتے اور سورج غروب ہونے سے پہلے ہی واپس آ جاتا۔اس کے بعد اور زمین خریدی گئی۔جہاں اور خاندان آ کر آباد ہوئے۔جن میں اکثریت ہاریون اور مزدوروں کی تھی۔ نہون نے قریبی زمینداروں کی نوکری کر لی۔ اس وقت گھر کے اخراجات کے لئے کھانے پینے کی چیزیں مشنریوں کی طرف سے دی جاتی تھیں۔چند ماہ بعد گوٹھ میں ایک چھوٹی ڈسپنسری بھی کھولی گئی۔ جس کے لئے کراچی سے نرسوں(راہبات) کو لایا گیا۔ جو اصل میں پنجاب سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان میں سے ایک نرس(راہبہ) اپنے پیشے میں کافی مہارت رکھتی تھی۔ ان کے دو تین سال بعد پرائمری سکول کی بنیاد رکھی گئی اس طرح گوٹھ میں تعلیم کا آغاز بھی ہوا۔ ماسٹر جیمز اور مسز مریم پہلے استاد تھے جو گھر گھر میں خاص طور پر لڑکیوں کو تعلیم دیتے تھے۔ 1941-42ء میں مکھی کی دیہہ باکھوڑو سے اوپر کی طرف دیہہ کھڈواری میں 800 ایکڑ زمین خریدی گئی۔ جہاں آج کل ریٹائرڈ فوجیوں کے چکوک بھی آباد ہیں۔ انہوں نے جنگل کو صٓف کرنا شروع کیا تاکہ کپاس کی بوائی ہو سکے۔ مکھی سے لے کر کھڈواری تک لکڑی کے بڑے بڑے منڈھ تھے۔ان کے ساتھ ہی پانی کی جھیلیں تھیں جن مں لئی۔کھبڑ
سرنھن جیسی جھاڑیوں میں سانپ کنڈلی مارے بیٹھا ہوتا۔ ہاریوں کا پہلا کمدار اروی شاہ پنجاب سے آیا۔ جس نے اس کام کی ذمہ داری لی۔ اس کے بیٹے ضیاء نے اپنی پوری زندگی گوٹھ کے مشنری پرائمری سکول میں بچوں کو تعلیم دینے میں گزاری۔ اس وقت شائد ہی آس پاس کے علاقے میں کوئی سکول ہو۔ اسکول میں پہلی خاتون ٹیچر مسز مریم تھی۔ بعد میں ماسٹر جیمز نے اس کام میں حصہ لیا۔
جو ڈلوال مشنری اسکول سے تعلیم حاصل کر کے آیا تھا۔ کچھ عرصے بعد پوسٹ آفس بھی کھل گیا جو آج تک چل رہا ہے۔ یہ پورے علاقے میں پہلا پوسٹ آفس تھا۔ شروع شروع میں زمینوں پر جانے کے لئے پادری اکثر گھوڑا استعمال کرتے تھے۔ جبکہ گوٹھ میں پیدل چلتے تھے۔ جانوروں کا دودھ ہاریوں میں تقسیم کر دیا جاتا ۔ اس کے ساتھ ساتھ عیسائی مذہب کا پرچار بھی جاری تھا۔ فادر ٹوبائس کسی باہر کے آدمی کو گوٹھ میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیتا تھا۔ کتاب In the land of Sindhid and Balochis کے مطابق 1941-42 ء میں علاقے میں فساد برپا ہوا۔ کیونکہ یہاں حروں کی اکثریت تھی جو انگریزوں کے مد مقابل تھے۔ 1942ء میں ریلوں کی پٹڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ گوٹھوں اور فصلوں کو آگ لگا دی گئی۔ اس دوران سرحدی گوٹھوں کے رہنے والوں کو سورج غروب ہونے کے بعد گھروں سے باہر نکلنے سے منع کر دیا گیا۔ اور دن کو بھی اپنی زمینوں پر باہر رہنے پر پابندی لگائی گئی۔ راستوں پر پولیس اور فوج کا پہرہ تھا جو لوگوں کو گھروں سے اندر باہر جانے سے روکتا تھا۔ پوری گوٹھ پر خوف چھایا ہوا تھا۔ خود پادری صاھبا ن گوٹھ کے ساتھ باہر زمین میں سرنگیں بنا کر رہتے تھے۔ بہر حال بعد میں حکومت نے گوٹھ کے لوگوں کے باہر جانے کے لئے پاس بنا کر دئیے۔ پہلے پادری جو گوٹھ کے آس پاس رہنے والے جمالی ، لغاری اور ارائیں ذات کے لوگوں کو اٹھا کر فوج اور پولیس نے اس گوٹھ کی حدود میں بٹھایا تاکہ ان کی حفاظت آسانی سے کر سکیں۔ ماڑوؔ نام کا ایک چوکیدار بھی بھرتی کیا گیا جس کو مشنری تنخواہ دیتے تھے۔ وہ رات کو لٹھ اور لالٹین لے کر گلیوں میں گھومتا رہتا۔ ان حالات میں گوٹھ کی ڈسپنسری کی نرسوں (راہبات) کو واپس کراچی بھیج دیا گیا او رڈسپنسری عارضی طور پر بند کر دی گئی۔ 1943ء میں حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تھرپارکر کے کلکٹر کی طرف سے گوٹھ چھوڑنے کے لئے ایک خط بھیجا گیالیکن لوگوں نے انکار کر دیا۔ اس دوران زمین میں مزید کاشت بھی نہ کی گئی۔ بہر حال حروں نے گوٹھ پر کبھی بھی حملہ نہیں کیا۔
1943ء میں حکومت نے مکھی کے باقی علاقے کو صاف کر کے ریٹائیرڈ فوجیوں کی کالونیاں آباد کرنے کا فیصلہ کیا۔ پادریوں نے بھی چاہا کہ ان کی گوٹھ با کھوڑو سے دیہہ کھڈواری میں کالونیوں کے ساتھ شفٹ کی جائے پر فادر ہرمس جو مشنری انچارج تھا بیمار ہو گیا اور 15؍ فروری 1944ء میں وفات پائی۔ جس کی جگہ دوسرا پادری گارڈین آیا۔ اور یہ منصوبہ بیچ میں ہی رہ گیا۔ دسمبر1944ء میں مشنریوں نے تمام لوگوں کا خرچ برداشت کرنے سے جواب دے دیا۔ جس کی وجہ سے کچھ لوگ گوٹھ سے چلے گئے۔ 1945ء میں جب نئی کالونیاں قائم ہوئیں تو گوٹھ کو یہی 800 ایکڑ کھڈواری والی زمین دی گئی جو گوٹھ کے چھوٹے کھاتیداروں میں تقسیم کی گئی۔ زمین میں جنگل عام تھا اسلئے مشنریوں نے اپنے خرچ پر اسے صاف کرنے کا ذمہ لیا۔ اور اس پر اٹھنے والا خرچ چھوٹے کھاتیداروں سے پانچ سال میں وصول کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی دوران ایک نوجوان پادری برادر ہوم لیس بھی پہنچ چکا تھا جس نے آگے چل کر ایک نئی منصوبہ بندی کے تحت گوٹھ کو مثالی بنانے کی بنیاد رکھی۔ اسی دوران ایک ایسا پادری بھی آیا جو صبح سویرے چلتا اور جہاں چاہے سو رہتا۔ مگر وہ جلد ہی واپس چلا گیا۔ برادر ہوم لیس کے آنے سے گوٹھ میں دوبارہ سماجی سرگرمیوں کا آغاز ہوا اور مزید خاندان ہاریوں کا کام کرنے لگے۔ گوٹھ کے مقامی لوگوں میں لوہار ، ترکھان بھی پیدا ہو گئے۔ اسی دوران پاکستان وجود میں آیا اور 1947ء میں سانگھڑ پہلی دفعہ ضلع بنا جو 1949 ء میں اور آخرکار 1953ء میں مکمل ضلع قرار دیا گیا۔
سال 1947-48ء گوٹھ کے لئے اہم رہا۔ جب اس وقت کے پادری فیلکس ،جو خود بھی انجنئیر تھا ،نے نیا چرچ Saint Isidor ،پادریوں کی رہائش گاہ Parish House ڈسپنسری، راہبات کے لئے رہائش گاہ کو باقاعدہ ڈیزائن کے مطابق تعمیر کرنا شروع کیا۔ اس طرح پادری جو گوٹھ کے لئے ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔ دور و نزدیک کے علاقوں میں مشہور ہوگیا کہ 1949ء میں ایک خوبصورت


(۳)
چرچ تعمیر کر دیا گیا۔ جس کو دیکھنے کے لئے دور دور سے سیاح آتے تھے۔ سندھی فلم ’’شہید‘‘ کا چرچ والا سین یہیں فلمایا گیا۔ اس چرچ کی تعمیر کرنے والا مستری شکار پور کا رہنے والا تھاجس کا نام برکت موریانی تھا۔ جسے اس وقت کے پادری نے خوش ہو کر اپنے ہاتھ مین پہنی ہوئی گھڑی اتار کر دی۔ آس پاس کے علاقے میں پرانی پکی جگہیں آج بھی برکت کی کاریگری کا ثبوت ہیں۔ اس نے پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے بیٹوں کو پڑھایا لیکن آخر میں وہ سب چھوڑ گیا اور وہ خود اندر اور باہر کے اندھیروں سے ٹکراتا ہوا چلا گیا۔ آج برکت کے بیٹے نہ آفیسر،نہ ڈاکٹر ہیں بلکہ وہ برکت کی برکتوں سے گوٹھ کے باہر راج گیر بن گئے ہیں۔ 1943ء میں آگ لگانے کے باوجود رہائش گاہ پر لگی ہوئی تختی آج بھی نمایاں ہے جس پر لکھا ہے’’ گارڈین نے تعمیر کرایا ، ہوم لیس نے رہائش کے قابل بنایا اور فیلکس نے آباد کیا۔‘‘
اس رہائش گاہ کے سامنے لگائے گئے چھوٹے بڑے درخت اور پودے آج خوبصورت باغ کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پھولوں کے شاہکار پودے بھی تھے۔ جنہیں اس سے پہلے یہاں کے لوگوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ الائچی اور کالی مرچ کے پودے بھی موجود تھے۔ پورے علاقے میں پہلی دفعہ صوفی بیروں کے درخت لگائے گئے جنہیں عام لوگ سانگھڑ اور دیگر علاقوں سے دیکھنے کے لئے آتے تھے۔ لیکن آج یہی باغ ولائتی گوروں کے نہ ہونے کی وجہ سے ویران ہو چکا ہے۔
کچھ سالوں بعد ڈسپنسری کی عمارت بھی باقاعدہ مکمل ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی کونونٹ(راہبات کی رہائش گاہ) بھی تعمیر کی گئی۔ جس میں راہبات کو دوبارہ کراچی سے لایا گیا۔ یہ نہ صرف گوٹھ کے بلکہ آس پاس کے غریب لوگوں کا علاج بھی کرتی تھیں۔ خصوصاٌ عورتوں اور بچوں کے امراض سے بخوبی واقف تھیں۔ گوٹھ کا اسپتال لوگوں سے بھرا ہوتا تھا۔ اگر جیب میں دو روپے ہیں تو دے دو ورنہ خیر ہے۔ گوٹھ کی پوری تاریخ میں دیکھا جائے تو مالٹاؔ سے تعلق رکھنے والی مدر اوالڈا سماجی خدمتون کا ایک لازوال اور بے نظیر اہم کردار ہے۔ اس با ہمت خاتون کو یاد کرتے ہوئے ہندوستان کی مدر ٹریسا کی
یاد آ جاتی ہے۔ مدر اوالڈا اخلاقی لحاظ سے بلند کردار تھیں۔ وہ سب کا استقبال مسکراہٹ اور خوشدلی سے کرتی تھی۔ شفقت اور رحمت کا دریا اس کے دل میں بہتا تھا۔ وہ بغیر کسی مذہبی یا سماجی فرق کے مریضوں کے لئے حاضر ہوتیں۔ تقریباٌ تیس پنتیس سال علاقے کی خدمت کے بعد جب وہ گئیں تو مریضوں کی طرف لاکھوں کے قرضہ جات معاف کر گئیں۔ جس دن وہ گئیں اس دن گوٹھ اور آس پاس کی عورتوں کی آنکھوں میں آنسو اور دلوں پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ اس کے دو تین سال بعد جب مدر اوالڈا دو تین دن کے لئے گھومنے پھرنے آئیں تو اسے دیکھنے کے لئے بزرگ بھوکی عورتیں قطار میں بیٹھی تھیں،اس نے نہ صرف پادری جو گوٹھ کی عورتوں کی بلکہ میان کی عورتوں کی دعوتین بھی قبول کیں۔ اسے تحفے تحائف بھی دئیے گئے۔ 1950-60 کی دہائی میں برادر ہوم لیس نے باقاعدہ جدید منصوبہ بندی کے تحت گوٹھ کو آباد کیا۔ گھروں کی قطاروں کے ساتھ رستے بنائے گئے۔ان راستوں اور گھروں کے بیچ میں ڈرینیج نظام کے لئے بھی جگہ چھوڑی گئی۔ آپس میں ملنے والے راستوں پر چوک بنایا گیاجہاں کریانے کی دکان ، لوہار اور ترکھان بیٹھے ہوتے تھے۔ پانی کی سہولت کے لئے کنواں بھی کھدوا یا گیا۔ جس کے نشان آج بھی موجود ہیں۔ یہاں کا پادری دیہہ باکھوڑو اور دیہہ کھڈواری کی زمین کا حساب کتاب بھی رکھتا تھا۔ کچھ اناج اور بھوسہ وقت کے مطابق ادھار بھی دیتا تھا۔ وہ انتہائی شفیق اور غریب پرور ہوتا تھا۔ عید خواہ عیسائیوں کی ہو یا تھر کے مسلمانوں کی ،کوئی بھی جاتا ،وہ خالی ہاتھ نہ آتا تھا۔ تبدیلی سے پہلے زمینداروں کی طرف جو بھی حساب کتاب رہتا تھا اس نے تمام قرض معاف کر دیا۔ غریبوں کے دکھ سکھ میں شریک ہونے والا یہ پادری تبدیل ہو کر لاہور چلا گیا۔برادر لوکس کی بدلی ہونے سے کچھ سال پہلے ایک اور عوامی شخصیت ڈچ پادری روپرٹ آیا۔ جس کی کوششوں سے پہلی دفعہ علاقے میں بجلی آئی۔ روڈ تعمیر ہوا،کمیونٹی ہال بنایا گیا۔ وہ گوٹھ میں پہلی دفعہ ایک چھوٹا ٹی ۔وی لایا جو بیٹری سے چلتا تھا۔ یہ 1975-76ء کی بات ہے۔ اسے لوگ دور دور سے دیکھنے کے لئے آتے تھے۔ 1979 ء میں جب بھٹو کو پھانسی دی گئی اور اس کی خبر ٹی۔وی پرنشر ہوئی تو کچھ لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا لیکن کچھ لوگوں کو اچھا نہ لگا جس کی وجہ سے جھگڑا ہو گیا۔جھگڑے پر قابو تو پا لیا گیا مگر آس پاس کے لوگوں نے گوٹھ میں آنا جانا بند کر دیا۔ فادر روپرٹ کی ڈرائیونگ بھی کمال کی تھی۔وہ تیز رفتار گاڑیوں سے بچتا ہوا گولی کی طرح نکل جاتا۔ دروازے پر آئے ہوئے کو نا امید نہ کرتا۔ اس نے زندگی کے آخری دن اپنے وطن ہالینڈ میں گزارے اور وہیں وفات پائی۔ پادری جو گوٹھ کے لوگوں کی تعلیم کے سلسلے میں انگریزوں کے دور میں پرائمری اسکول جو بعد میں ایلیمنٹری ہوا اور دوسرا سانگھڑ شہر میں خاتون فاطمہ ہائی سکول 1960 ء میں مشنریوں کی زیر نگرانی قائم ہوا۔ گوٹھ میں پڑھے لکھے گروہ کو پیدا کرنے میں ٹیچر نذیراں یعنی مسز خوشی مسیح فیلکس اور ماسٹر ضیاء کا ہاتھ ہے۔ اس گوٹھ میں پاکستان بننے سے بھی پہلے پوسٹ آفس موجود تھا۔ پادری جو گوٹھ میں رہنے والے مسیحی دیگر مذاہب کے لوگوں کی مانند اپنے مذہبی تہوار مناتے ہیں۔ کہتے ہیں تعلیم لوگوں میں شعور پیدا کرتی ہے۔ پڑھے لکھے لوگوں کی قائم کردہ NGOs ترقیاتی کامون میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس لئے گوٹھ کے نوجوان بھی کاریتاس نام کی NGO سے منسلک ہو کر غریب عوام کی بھلائی کے کام کر رہے ہیں۔ آسان شرائط پر قرضہ دینا، ماحول کے بارے میں سیمینار کے ذریعے شعور پیدا کرنا ، ووکیشنل ٹریننگ کروانا، آفت زدہ علاقوں کے عوام کی مدد کرنا وغیرہ شامل ہے۔ آج اس گوٹھ میں پڑھے لکھے لوگوں کی کمی نہیں۔ مزدور ، ہاری ، زمیندار سے لے کر استاد ،
ڈاکٹر ، انجنئیر اور دیگر ہنر مند بھی شامل ہیں۔ واقعیء پادری جو گوٹھ ایک مسیحی تاریخی اور مثالی گوٹھ ہے۔
اقبال بسملؔ


 

 

 
   

 home page - index

top               «      »