S A C W A

SOUTH ASIAN CHRISTIAN WRITER'S ASSOCIATION

A Forum of Writers, Intellectuals, Journalists and critics

 
 
 
 Humour


جوزف اقبال بسملؔ
ایم۔اے۔ ، بی۔ایڈ ، ایل۔ایل۔بی
سانگھڑ۔ سندھ
طنز و مزاح
اس مضمون کی تیاری میں مغرب کے ممتاز مصنفین برگساں ، جیمس سسلی، البرٹ راپ کے
خیالات اور ڈاکٹر خورشید الاسلام کے مضمون ’’طنز و ظرافت‘‘ وزیر آغا کے مضمون ’’مزاح اور
مزاح نگاری ‘‘ اور کلیم الدین احمد کے مضمون ’’اردو ادب میں طنز و ظرافت‘‘ سے مدد لی گئی ہے
تا کہ مسیحی لکھاریوں کو بھی ادب کی اس موثر صنف کی طرف متوجہ کیا جائے۔

طنز و مزاح ایک ایسی صنف ہے جس کے ذریعے مذاق کے ساتھ ساتھ ہم بہت کچھ کہہ جاتے ہیں۔ وہ باتیں جو خالص تنقید میں مصنفین کی
دلآزاری کا سبب بن سکتی ہیں وہی باتیں طنز و مزاح کے ذریعے مصنفین کو ان کی خامیوں اور عوام کی انفرادی اور معاشرتی کمزوریوں سے آگاہ کرکے
مثبت نتائج حاصل کر سکتی ہیں۔
ہنسنا اور ہنسانا طنز و مزاح کا خاصہ ہے ۔اسے قدرت کی ستم ظریفی یا کرم نوازی کہئیے کہ ہر آدمی رونے یا ہنسنے پر مجبور ہے،اور دونوں زندگی کے لئے از بسکہ
ضروری ہیں۔ گویا دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ رونے کی نسبت دنیا زیادہ تر خوشی کی طالب ہے اور رونے سے گریز کرتی ہے۔ جذبات کے لحاظ سے
ہنسنے کی اہمیت عظیم اور مسلم ہے۔لیکن اس کی ابتدا کب ، کہاں اور کیوں ہوئی ؟ اس پر تحقیق کرنا الجھن اور دماغ ریزی سے کم نہیں۔ اگرچہ اس کا کوئی
تحریری ثبوت نہیں تاہم یہ خیال آرائی ہے اور جو بے بنیاد نہیں کہ ہنسنے کی ابتدا آدمی نے اس وقت کی جب وہ تہذیب و تمدن سے بیگانہ تھا۔ اور ہنوز عہدِ
حجری میں بھی قدم نہ رکھ سکتا تھا۔ خونخوار جانوروں سے مقابلہ کر کے شکار کرتا اور ہم جنسوں سے نبرد آزما ہو کر دشمن پر فتح پانے کے بعد اپنی خوشی کا
اظہار بے معنی الفاظ اور بے ہنگم آواز کے ذریعے ضرور کرتا ہوگا۔ وہ زور زور سے قہقہے لگاتا ، خود ہنستا اور دوسروں کو بھی ہنساتا ہوگا۔ اس سے ظاہر ہوتا
ہے کہ ہنسنے کی ابتدا وحشیانہ اور جارحانہ اقتدار پر قائم ہوئی۔ کسی کو ہنستے دیکھ کر ،خود نہ ہی دوسروں کی ہنسی میں کچھ دیر کے لئے ہی سہی غمِ دنیا کو بھول
جاتا ہے۔ ذہنی خلفشار کی شدت کم ہو جاتی اور کشمکش سے نجات کا احساس ہوتا ہے۔ انسان وقتی طور پر اپنی الجھنوں سے نکل آتا ہے اور ہنسی اسے وہ
تازگی بخش دیتی کہ وہ غمِ دنیا کو برداشت کرنے کی قوت محسوس کرتا ہے۔
جس ہنسنے کی بنیاد غیر مستحسن جذبات سمجھی گئی ہے اسی کے بطن سے ظرافت اور اس سے متعلق جملہ اجزاء کی پیدائش ہوتی رہی ہے۔ پھبتی،فقرے بازی
اور لطیفہ گوئی سب اسی ہنسنے ہنسانے کی مختلف صورتیں یا علامتیں ہیں۔ اس کی لطافت و نزاکت کا مزا پاکر اہلِ علم و دانش اس کی طرف متوجہ ہو گئے اور پھر
مہذب و متمدن معاشرے میں اس کے وجود ، نفاست اور دلکشی میں نکھار آتا چلا گیا۔ ظرافت میں کسی نہ کسی کو مذاق کا نشتر لگانا مقصود ہوتا ہے۔ اس میں
کسی کی ذات پر ہنسنا اور دوسروں کو ہنسانا ہوتا ہے۔ مذاق کا اندازہ خواہ کتنا ہی معصومانہ ہو ،ہنسنے والے خوش ہوتے ہیں۔ مگر جس کو مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے
وہ باظن میں روتا ضرور ہوگا۔ خواہ ظاہراٌ شکوہ نہ کرے بہر حال اسے مجلسِ یاراں میں خندہ پیشانی سے برداشت کرنا ہی پڑتا ہے۔
ہنسی کی ابتدا جیسے بھی ہوئی ہو ،قرینِ قیاس یہی ہے کہ وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ اس میں تغیرات آتے رہے۔ اور یہاں تک کہ تذلیل و تضحیک سے
ہٹ کر اصلاح و تربیت کا ذریعہ بھی بن گیا۔ اکثر مقامات پر بد روی و بہی خواہی کی بھی جھلک ہنسی میں نظر آنے لگی۔ اس ہنسی کو برقرار رکھنے کے لئے تقریر ،
تحریر، صوت ۔ حرکات و سکنات کا سہارا لیا گیا تو یہ فنونِ لطیفہ کی حد میں داخل ہو گیا۔ چناچہ طربیہ بن کر ڈرامہ کی جان بن گیا۔

(۲)
الغرض ! ہنسنا اور قوم کی ترقی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ چاہے کہیں علم ہو یا نہ ہو، ہنسنا وہاں بھی اپنا جھنڈا گاڑ دیتا ہے۔ چاہے طبقہ پڑھے لکھے لوگوں کا ہو
یا جاہل افراد کا ، سماج کی ترقی میں ہنسی ایک زبردست قوت رہی ہے۔
ہنسنے سے دماغی اور جسمانی فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ہنسنا صحت کے لئے مفید ہے۔اس سے دماغ اور جسم پر مفید اثر پڑتا ہے۔ ہنسنا
ایک طرح کی مالش ہے۔ جس سے پھیپھڑے ، دل،جگر ،آنت وغیرہ سب متحرک ہو جاتے ہیں۔ چناچہ اکثر ادھیڑ عمر کے آدمی کم ہنستے ہیں اس لئے بھی
ان کی صحت خراب رہتی ہے۔ احساسِ کمتری کو برتری میں تبدیل کرنے کے لئے ہنسنا جتنا کارآمد ہے شائد ہی کوئی تحریک اتنا اثر کرتی ہو۔ اس سے ذہن
کی کمزوریوں کی تلافی ، خود داری کے احسااس سے ہو جاتی ہے اور خود اعتمادی برقرار رہتی ہے۔
سنجیدگی کائنات کی ازلی اور ابدی خصوصیت ہے اور اس سنجیدگی کے طلسم کو توڑنے کے لئے ہنسی کا عمل ، عمل میں لایا جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے قدرت
نے انسان کو ایک ایسی قوت بھی بخش دی ہے کہ وہ کائنات کی خوفناک سنجیدگی پر مسکرا کر یا قہقہہ لگا کر اپنی دیوانہ وار پیشقدمی میں دھیما پن پیدا کر سکتا ہے
تاکہ مشین کی مانند فطرت کے اشاروں پر ناچتا نہ چلا جائے۔
اگر ماں کا تبم بچے کو مزید انہماک کی ترغیب دیتا ہے تو ہنسی ایک عاقل و بالغ کو اپنی سنجیدہ کاوشوں اور جذباتیت سے سینچتی ہوئی کاوشوں پر نظر ڈالنے کا موقع
فراہم کرتی ہے۔ مشہور لطیفہ ہے کہ کسی نے ہائیڈروجن بم کے بارے میں آئن سٹائن سے اس کے خیالات دریافت کئے تو اس نے مسکرا کر جواب دیا،
’’ہائیڈروجن بم سے ہماری زمین کے تباہ ہو جانے کا قطعاٌ کوئی امکان نہیں اور بالفرض اگر تباہ ہو بھی گئی تو اس سے اتنی بڑی کائنات میں قطعاٌ کچھ فرق نہیں
پڑے گا۔‘‘
پس ! تبسم ، مسکراہٹ ، ہنسی اور قہقہہ ہی ہمیں اس سنجیدہ کائنات میں زندہ رکھنے کے ذمہ دار ہیں۔ اور یہی زندگی کو قابلِ برداشت بناتے ہیں۔
ہنری برگساں اپنی کتاب ’’لافٹر‘‘ Laughter کے صفحہ نمبر 77 پر لکھتے ہیں( ترجمہ : ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا ، بیٹھ اکیلے رونا ہوگا) یہ مثل اس بات کا
بین ثبوت ہے کہ مزاح کے طفیل انسان اور انسان کے مابین ایک ناقابلِ شکست رشتہ معرضِ وجود میں آتا ہے۔ عام زندگی میں بھی دیکھئیے تو ہنسی ایک
متعدی بیماری کی طرح پھیلتی ہے۔ اور جہاں چند لوگ ہنس رہے ہوں وہاں راہگیر بے جانے بوجھے بھی ان کی ہنسی میں شریک ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
گویا ہنسی افراد کو باہم مربوط ہونے کی ترغیب دیتی ہے۔
سوسائٹی کی لکیر سے بھٹکے جو لوگ اس کا مذاق اڑاتے اور اس پر ہنستے ہیں تاکہ وہ اپنے کئے پر رنج و ندامت محسوس کرتے ہوئے پھر سے اس لکیر میں
شامل ہو جائے۔اس طرح ہنسی ایک ایسی لاٹھی ہے جس کے ذریعے گلہ بان محض غیر شعوری طور پر اس فرد کو دوبارہ گلے میں شامل کرنے کی کوشش کرتا
ہے جو کسی وجہ سے سوسائٹی سے بچھڑ جاتا ہے۔گویا ہنسی ایک ایسا آلہ ہے جس کے ذریعے سوسائٹی اس فرد سے انتقام لیتی ہے جو سوسائٹی کے اصولوں سے
بچ نکلنے کی سعی کرتا ہے۔ ہنسی کے ساتھ عضویاتی مظاہر بھی شریکِ کار ہوتے ہیں۔ آرتھر کوئسلر کا کہنا ہے کہ :
’’خیالات و احساسات ایک خوبصورت تصویر دیکھ کر یا ایک اعلیٰ نظم پڑھ کر ہمارے دلوں میں ضرور متحرک ہوتے ہیں۔ لیکن ایسا خاص عضویاتی مظاہرہ
پیدا نہیں ہوتا جو ہنسی کے وقت معرضِ وجود میں آتا ہے۔اور یہ چیز محض ہنسی سے مخصوص ہے کہ انسان ایک لطیفے کو سن کر یا پڑھ کر اپنے جذبات و
احساسات کا نمایاں انداز میں اظہار کرتا ہے۔ ہنسی کے بارے میں ڈارونؔ یوں رقم طراز ہے :
’’ ہنسی کے دوران منہ کھل جاتا ہے اور ہونٹوں کے کنارے پیچھے اور اوپر کی طرف ہٹ جاتے ہیں۔اسی طرح اوپر والا ہونٹ قدرے اور اوپر کو اٹھ جاتا ہے
اور شدید ہنسی کے دوران تو سارا جسم کانپنے لگتا ہے۔ سانس میں نا ہمواری پیدا ہو جاتی ہے اور آنسو بہہ نکلتے ہیں،‘‘
(Charles Darwin Expression of emotions p- 208-214)
پروفیسر سیلیؔ نے اپنی کتاب (Enjoyment of coughter)میں ہنسی کے تدریجی ارتقاء پر روشنی ڈالتے ہوئے خفیف تبسم، مسکراہٹ اور قہقہے کو
ایک ہی کیفیت کے تین مختلف مدارج قرار دیا ہے۔ جے۔وائی۔گریگ(J.Y.T.Greig) لکھتا ہے:
’’دروازہ پر سے چھلانگ لگانے یا بندوق کی لبلبی دبانے سے ذرا قبل آپ ایک لمبا سانس لیتے ہیں اور پھر اسے اپنے سینے میں روکے رکھتے ہیں۔ ہنسی کے وقت بھی
آپ اسی طرح ایک لمبا سانس لیتے ہیں مگر اسے روکنے کی بجائے آواز کے چھوٹے چھوٹے تیز دھماکوں کی صورت میں خارج کر دیتے ہیں۔‘‘

(۳)
(J.Y.T.Greig - The psychology of Lavghter comedy - p - 214)
بیسویں صدی کے آغاز سے قبل انسانی فکر کی تاریخ میں مزاح کے مسئلے پر دو نہایت دلچسپ نظرئیے ملتے ہیں۔ ایک نظریہ تو یونانؔ کے مفکرِ اعظم ارسطوؔ
اور تیرھویں صدی کے انگریز مفکر تھامس ہابز کا ہے ۔انہون نے ہنسی کی توضیح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ہنسی کسی کمی یا بد صورتی کو دیکھ کر معرضِ وجود میں
آتی ہے۔ جو درد انگیز نہ ہو۔‘‘
دوسرا نظریہ جرمن فلاسفر عمانوئیل کانٹ کا ہے جسے شوپنہار نے اپنے نظرئیے میں سمو یا ہے، جو یہ ہے۔
’[ہنسی کچھ نہیں سوائے اس جذبہء افتخار یا احساسِ برتری کے جو دوسروں کی کمزوریوں یا اپنی گذشتہ خامیوں کے تقابل کے باعث معرضِ وجود میں آتا ہے۔
(Hobbes - Human nature in works(Molesworth - 1840 vol iv p - 46)
ہابز(Hobbes) کا نظریہ در اصل ایک اخلاقی نظریہ تھا،جس کا سہارا لے کر اس نے اسی بات پر زور دیا کہ ہر وہ ہنسی غیر اخلاقی ہے جو دوسروں کی توہین
کرے۔ گویا ہابز ؔ کا نظریہ اس زمانے کے اخلاق کی نمائندگی کرتا ہے، جہاں اچھی سوسائٹی میں بلندآواز سے ہنسنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔
اعمانوئیل کانٹ کے نظریہ کے مطابق ہنسی اس وقت نمودار ہوتی ہے جب کوئی چیز ہوتے ہوئے رہ جائے، اور ہماری توقعات اچانک ایک بلبلے کی طرح پھٹ
کر ختم ہو جائیں۔ شوپنہارؔ بھی قریب قریب اسی نظریہ کا علمبردار ہے۔ ۔اس کے مطابق ہنسی ، تخیل اور تحقیق کے مابین نا ہمواری کے وجود کو اچانک محسوس
کر لینے سے جنم لیتی ہے۔جتنی خلافِ تقوع یہ نا ہمواری ہوگی اتنی ہی شدید طور پر ہنسی بھی نمودار ہوگی۔
میکسؔ ایسٹ مین (Max Eastman) نے ارسطوؔ اور کانٹؔ کے بظاہر متضاد نظریات کی تشریح یوں کی ہے۔
’’بچے کو ہنسانے کے دو آسان طریقے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ آپ ہنسیں اور جب بچّہ آپ کی طرف متوجہ ہو جائے تو اپنی صورت خوفناک بنائیے جسے دیکھ کر
بچّہ ہنس دے گا ۔سرکس کا مسخرہ بھی انہی دونوں طریقوں سے تماشائیوں کو ہنساتا ہے۔
بیسویں صدی کے آغاز سے قبل مزاح کے مسئلے پر ہربرٹ اسپنسرؔ (Herbert Spencer) جوزف ایڈیسن (Joseph Addison) الیگزینڈر بین
(Alexander Bain) اور پروفیسر لپسؔ (Prof. Lipps) جیسے مفکرین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
پروفیسر سیلیؔ نے اپنے معرکتہ الآرا تصنیف ( An Essay on Laucnter) میں ہنسی کی وجوہ میں گدگدی ، انتہائی مسرت اور عملی مذاق وغیرہ کو
خاص اہمیت دی ہے۔ انہوں نے ہنسی اور کھیل میں قرابت پر خاصا زور دیا ہے اور ہنسی کے اجزاء میں بچے کی سی مسرت آمیز حیرت اور کھیل کی طرف نمایاں
رجحان کو مقدم جانا ہے۔
پروفیسر سیلیؔ کی کتاب کے بعد دو مزید کتابیں سامنے آئیں یعنی میزی برگستاںؔ کی کتاب (Laughter) اور سگمنڈ فرائڈ کی کتاب (Wit and its
relation to the unconscious) ہنری برگساں ؔ نے ہنسی کو خالص ذہنی عمل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جذبات مثلاٌ ترحم کے جذبات
کی ہلکی سی رَو بھی اسے ختم کر دیتی ہے۔
مشہور ماہرِ نفسیات سگمنڈ فرائڈؔ نے وِٹ (Wit) کو تجرباتی مطالعہ کے لئے منتخب کیا،کیونکہ اس کے باعث نظریہ لا شعور پر روشنی پڑ سکتی ہے۔ فرائڈؔ نے
مزاح کی چار صورتیں پیش کی ہیں ،بے ضرر لطائف ، افادی لطائف ، مضحکہ خیز اور خالص مزاح۔
فرائڈؔ کے مطابق بے ضرر لطائف سے ایسی مسرت کا حصول ہے کہ انسان ان میں کھو کر واپس اپنے بچپن کے ماحول میں پہنچ جاتا ہے۔ افادی لطائف ان
جنسی یا تشّدد آمیز خواہشات کو آزاد کرتے ہیں جو عام زندگی میں ماحول اور سوسائٹی سے ہم آہنگ نہ ہونے کی صورت میں دبائی جا چکی ہیں۔ مضحکہ سے حصولِ
مسرت کے کے متعلق فرائڈؔ نے لکھا ہے کہ یہاں مسرت قوتِ تخیل میں بچت سے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی کسی کام کو کرنے کے لئے جتنی قوت درکار ہو وہ کام
اس سے کم قوت کے باعث انجام دیا جا سکے اور فاضل قوت ہنسی کی صورت میں بہہ نکلے،’’کھودا پہاڑ نکلا چوہا‘‘ اس کی بہترین مثال ہے۔
آخر میں فرائڈؔ نے خالس مزاح کا ذکر کیا ہے اور اس سے حصولِ مسرت کو قوتِ جذبات میں بچت کا نتیجہ قرار دیا ہے، مثلاٌ ایک شخص کسی مصیبت میں ہو اور
دوسرا اس سے ہمدردی کرے لیکن اس کی ہمدردی کے باوجود پہلا شخص اس کی کسی بات سے محسوس کرے کہ وہ شخص اپنی ہی مصیبت کا مذاق اڑا رہا ہے تو
وہ بھی اس کا ہم نوا بن جاتا ہے اور پہلے کے لئے جمع شدہ ہمدردی میں جو بچت پیدا ہوتی ہے وہ ہنسی کی صورت میں بہہ نکلتی ہے۔


(۴)
ایسٹ مین Eastman)) نے اس مسئلے کو مختلف زاوئیے سے دیکھا اور اس کے چار اصول پیش کئے۔
الف ۔ اشیاء صرف اس وقت مزاحیہ رنگ اختیار کرتی ہیں جب ہم خود مزاح کے موڈ میں ہوں۔ سنجیدگی میں مزاح نہیں ہوتا۔
ب ۔ مزاح کے موڈ میں خوشگوار چیزوں کے ساتھ نا خوشگوار چیزین بھی اچھی لگتی ہیں۔
ج ۔ ہنسی کھیل کا رجحان بچپن کا امتیازی نشان ہے اور بچوں کی ہنسی مزاح کو اس کے سادہ ترین انداز میں پیش کرتی ہے۔
د۔ بالغوں میں ہنسی کھیل کا یہ رجحان کسی نہ کسی صورت میں ضرور ملتا ہے لہٰذا وہ ناخوشگوار اشیاء کو مزاحیہ رنگ میں دیکھنے اور ان سے محظوظ ہونے کی
صلاحیت پیدا کر لیتے ہیں۔
فرائڈ ؔ ، گریگؔ ، اور ایسٹ مین کے بعد آرتھر کوئسلر نے اس مسئلے پر طبع آزمائی کی ۔ آرتھر کوئسلر ؔ کے نظریات کے مطابق انسانی زندگی پر دو رجحانات مسلط
ہیں ، تشّدد اور مدافعت کا رجحان یعنی Self Assertive. دوسرا پھیلاؤ اور آفاقیت کا رجحان ،یعنی Self Transcending. ۔ تشّدد اور مدافعت
کے رجحان کے زیرِ سایہ انسان برتری ، جنسی تشّدد اور خود غرضی کے جذبات کا اظہار کرتا ہے جبکہ آفاقیت کے رجحان کے تحت ،ہمدردی ، محبت اور
بے غرضی کا۔
اس طریقِ کار کو مصنف نے عملِ رابطہ Bisolation کا نام دیا ہے اور کہا ہے کہ جس طرح مزاح کی تخلیق دو مختلف ذہنی منازل کے مابین ایک ربط
کی رہینِ منت ہے اسی طرح آرٹ بھی ایک عملِ رابطہ سے معرضِ وجود میں آتا ہے۔ اگرچہ ہنسی کے مسئلے پر بیشتر مفکرین نے اپنے اپنے خیالات کی وضاحت
کرنے کی کوشش کی ہے تاہم یہ مسئلہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا ہے۔ مزاح کے آغاز ،اہمیت اور اس سے متعلق مختلف مفکرین کے نظریات جاننے کے بعد
ضروری ہے کہ مزاح کے ارتقاء پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔ ہم نے مزاح کے پسِ پشت مختلف تحریکوں کا جائزہ بھی لیا۔ اب ضروری ہے کہ مزاح
کے تدریجی ارتقاء کو مختصراٌ زیرِ بحث لایا جائے تا کہ اس کی ارتقائی کیفیات کا صحیح اندازہ ہو سکے۔
بچو ں اور وحشیوں کے قہقوں میں پوشیدہ مزاح بالغ نظر انسانوں کے ذوقِ مزاح سے کافی پست ہوتا ہے۔ وحشی انسان کا دشمن کی کھال ادھیڑتے وقت لگایا
جانے والا قہقہہ کسی شئے کے گرنے ، ٹوٹنے یا بد شکل ہوتے دیکھ کر لگایا جانے والا بچوں کا قہقہہ آج کی مہذب دنیا میں قطعیء نا قابلِ قبول ہے۔ بہر حال انسانی
مزاح میں ایک تدریجی انداز کار فرما نظر آتا ہے۔ اگرچہ انسان کے اوّلین قہقہے میں شدّت اور گونج تو بہت تھی لیکن گہرائی اور لطافت کا فقدان تھا۔ آج بھی
بعض لوگوں کے لباس ، چال ڈھال، میل جول اور عادات و اطوار کی نقل اتاری جاتی ہے اور ان پر قہقہے لگائے جاتے ہیں۔ بلکہ ہنسی کے ساتھ تالیاں بجائی
جاتی ہیں۔ ایسا اکثر اجنبیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے اور انہیں تمسخر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
طبقاتی کشمکش کے علاوہ ذہنی وسعت ، اخلاقی اقدار ، سیاسی اور سماجی آزادی اور دولت کے تصور نے بھی ہمارے ذوقِ مزاح پر نمایاں اثرات مرتسم کئے ہیں
اب ہمارا مزاح گروہی ہنسی (Choral Laughter) سے ترقی کر کے انفرادی ہنسی (Individual Laughter) تک جا پہنچتا ہے۔
سٹیفن لی کاک ( Stephen Leacock) کہتا ہے کہ ،’’دنیا میں آنسوؤں کی فراوانی ہے لیکن یہ کتنی خوفناک جگہ ہوتی اگر یہاں آنسوؤں کے
علاوہ اور کچھ نہ ہوتا۔‘‘ (Stephen Leacock - Humour and Humanity - P -233) سٹیفن لی کاک نے خالص مزاح کی
تعریف ان الفاظ میں کی ہے۔ ’’ مزاح کیا ہے؟ یہ زندگی کی نا ہمواری کے اس ہمدردانہ شعور کا نام ہے جس کا فنکارانہ اظہار ہو جائے۔‘‘
(Stephen Leacock - Humour and Humanity - P - 11)
لی کاک کی توضیح کے مطابق مزاح نگار اس فرد کے ساتھ جس کا وہ مضحکہ اڑاتا ہے ایک ’’ ذہنی کھیل‘‘ میں شریک ہو جاتا ہے اور اس سے محظوظ ہونے
لگتا ہے، جبکہ طنز نگار کا معاملہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ طنز نگار کو اپنے نشانہ ، تمسخر سے کوئی ہمدردی پیدا نہیں ہوتی ۔
رونالڈ ناکس (Ronald Knox) کا کہنا ہے کہ : ’’مزاح نگار ہرن کے ساتھ بھاگتا ہے لیکن طنز نگار کتوں کے ساتھ شکار کھیلتا ہے،‘‘ گویا مزاح نگار
جن نا ہمواریوں سے محظوظ ہوتا ہے ، طنز نگار ان نا ہمواریوں سے نفرت کرتا ہے۔(Ronald Knox - Essays on Satire - P - 31)
بعض لوگوں کے نزدیک طنز و مزاح پر نمایاں فوقیت حاصل ہے ۔اگر مزاح ایک قومی کارنامہ ہے تو طنز ،بین الاقوامی حیثیت رکھتی ہے۔ طنز ، سماج اور
انسان کے رستے ہوئے زخمون کی طرف ہمیں متوجہکرتی اور بہت بڑی انسانی خدمت انجام دیتی ہے۔ لیکن دوسری طرف خالص مزاح بھی ہماری بدمزہ


(۵)
زندگیوں کو منور کرتا اور ہمیں مسرت بہم پہنچاتا ہے۔
مزاح نگاری کا پہلا حربہُ ُموازنہ ‘‘ ہے۔ یعنی دو چیزوں کی آپس میں بیک وقت مشابہت اور تضاد سے وہ ناہمواریاں پیدا کرنا ہے جن سے ہنسی کو بیدار کرنے
میں مدد ملتی ہے۔ مثلاٌ کنہیا لال کپور کی کتاب ’’چنگ و رباب‘‘ کا یہ جملہ ’’شیخ سعدی سے لے کر شیخ چلّی تک‘‘ جس میں شیخ کا لفظ مشترک ہے۔ لیکن سعدی اور
چلّی کا تضاد موجود ہے۔ جس کی وجہ سے ہم بے اختیار ہنسنے لگتے ہیں۔
مزاح نگاری کا دوسرا حربہ ’’لفظی بازیگری‘‘ ہے۔ یہ طریقِ کار رعایتِ لفظی کے نام سے مشہور ہے۔ رعایتِ لفظی کا مقصد یہ ہے کہ کسی لفظ کو اس انداز سے
استعمال کیا جائے کہ ناظر کو اس لفظ کے دو مختلف مطالب کا احساس ہو۔ رعایتِ لفظی کے لئے جدّت شرط ہے ورنہ تکرار سے اس کی مزاحیہ کیفیت کمزور
ہو جاتی ہے۔
مزاح نگاری کا تیسرا حربہ ’’مزاحیہ صورت واقعہ‘‘ ہیاس میں نا ہمواریون کی اچانک پیدائش ، ناظر کا احساسِ برتری اور یہ تسکین دہ احساس کہ اس واقعہ میں
صدمے یا دکھ کا پہلو موجود نہیں ہے۔ پطرس بخاری کا مضمون ’’مرحوم کی یاد میں‘‘ اس کی بہترین مثال ہے۔
مزاح نگاری کا چوتھا حربہ ’’مزاحیہ کردار‘‘ Humorous Character. ہے۔ وہ مزاحیہ کردار جس کی بدولت تمام کا تمام ماحول مضحکہ خیز صورت
اختیار کر جاتا ہے۔ مثال کے طور پر Don Quixote. یا فوجی کا نام لیا جائے تو ہم بے اختیار ہنس اٹھتے ہیں۔ عام زندگی میں میرا ثیوں، سکھوں ، جولاہوں
اور جاٹوں وغیرہ کے متعلق لطائف ناظر یا سامع کے ہونٹوں پر مسکراہت بکھیر دیتے ہیں۔ایک مکمل مزاحیہ کردار کو قدم قدم پر انوکھے واقعات کا سامنا ہوتا ہے
مزاحیہ ’’صورت واقعہ‘‘ اور مزاحیہ کردار جب ایک ہو جاتے ہیں تو اعلیٰ مزاح کی تخلیق ہوتی ہے۔
مزاح نگاری کا آخری حربہ پیروڈی یا تحریف ہے۔ پیروڈی سے نہ صرف مزاح نگار بلکہ طنز نگار بھی فائدہ اٹھاتا ہے۔ پیروڈی یا تحریف کسی مصنف یا کلام کی ایسی
لفظی نقالی کا نام ہے جس سے اس تصنیف یا کلام کی تضحیک ہو سکے۔اس کا مقصد ادبی یا نظریاتی خامیوں کو منظر عام پر لانا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ حالات زمانہ
کا مضحکہ اڑاتی ، کسی بلند مضمون کو خفیف مضمون مین تبدیل کرتی یا محض لفظی تبدیلیوں سے تفریح طبع کا سامان بہم پہنچاتی ہے۔ تحریف کا مقصد نہ صرف معاصر
ادیبون کی بے اعتدالیوں کو روکنا اور ان کی اصلاح کرنا ہے بلکہ زندگی کی ناہمواریوں کو ہدفِ طنز بنانا بھی ہے۔
پیروڈی کے ساتھ ’’تقلیب خندہ آور‘‘ Burlesque. بھی تحریف کی طرح لفظی نقالی ہے۔ سٹیفن لی کاک Stephen Leacock اپنی
کتاب Humour and Humanity.کے صفحہ نمبر65 پر لکھتا ہے۔
To Burlesque any thing means to make a fun out of it not for it.
کسی ادب پارے کو دوبارہ اسی انداز میں لکھا جائے کہ مزاح کی تخلیق ہو سکے ۔جبکہ نیو آکسفورڈ ڈکشنری میں لکھا ہے کہ :پیروڈی کو مصنف کی کسی خاص
تخلیق تک محدود ہونا چاہئیے کہ اس کے پیشِ نظر اصل کی مزاحیہ انداز میں تنقید ہو۔ لیکن ’’ تقلیب خندہ آور‘‘ ایک وسیع تر چیز ہے جو کسی مصنف کے
عام انداز یا کسی جماعت کی خاص پہنچ کی نقل اتارتی ہے۔ محض اس لئے کہ ہنسی مذاق کو تحریک ہو.طنز کا مطلب تخریب پسندی نہیں بلکہ اس کا نشتر چلانے
سے کسی فرد یا سوسائٹی کا اپنے مرض سے نجات حاصل کر لینا اس کا تعمیری کارنامہ ہے۔
طنز کے بارے میں آرتھر کوئسلر کا کہنا ہے کہ ’’طنز نگار زندگی اور سماج کی ناہمواریون کو یوں بڑھا چڑھا کر بیان کرے کہ ہم ان ناہمواریوں کی طرف متوجہ
بھی ہو جائیں اور ہمیں طنز نگار کی بات بھی بری نہ لگے۔ A.K. Insight and outlook - P- 95 مزاح کی طرح طنز بھی موازنہ ، مبالغہ اور لفظی
بازیگری اور تحریف وغیرہ کے حربے استعمال کرتی ہے۔ طنز و مزاح کے قبیلے کا آخری رکن صنفِ ادب کی اصطلاح میں رمزIony)) کہلاتا ہے ۔ رمز
تحریف کے کامیاب حربہ ’’مبالغہ‘‘ کے برعکس کم بیانی Statemen under. کا سہارا لے کر اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرتی ہے۔
رمز کرنے والا Ironist)) مخالف کے نقطہءِ نظر کو اپنا کر اس طریق سے بیان کرتا ہے کہ یہ نقطہءِ نظر ایک مہمل صورت اختیار کر جاتا ہے۔ در اصل اسی
میں رمز کرنے والے کی فتح ہے۔
طنز و مزاح کے تاریخی اور تنقیدی ارتقاء کا جائزہ لینے کے لئے ہمیں اردو ادب کی نشو و نما میں حصّہ لینے والی زبان یعنی انگریزی اور فارسی کے طنزیہ و مزاحیہ


(۶)
ادب کی خصوصیات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے۔
سب سے پہلے انگریزی کو لیجیئے جس کی نمایاں خصوصیت ’’خالص مزاح‘‘ کی ابتداء اور اس کا تدریجی ارتقاء ہے۔ خالص مزاح ابتداء ہی سے انگریزی ادب کا
طرہء امتیاز رہا ہے۔جسے شیکسپئیر، سٹرن شیریڈن اور ایڈیسن کی تحریروں میں با آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ طنز و مزاح کا مخصوص رنگ جین آسٹن سے
نمودار ہو کر کال والے تک جا پہنچتا ہے۔ انگریزی ادب میں طنز و مزاح کا آغاز چاسرؔ سے ہوا جس کے اشعار میں لطیف رمز کے اچھے خاصے نمونے ملتے ہیں۔
چاسرؔ کے بعد انگریزی ادب میں دوسرا نام شیکسپئیر کا ہے۔ طنز و مزاح کے ضمن میں اس کے ہاں ایک انفرادی رنگ نظر آتا ہے۔ شیکسپئیر کے
دور میں اگر ملٹنؔ Milton.جیسے سنجیدہ فنکار ملتے ہیں تو ڈرائیڈنDryden. پیپسPepys. اور بٹلرؔ Butler. جیسے طنز کے گرویدہ بھی دکھائی دیتے ہیں۔
پوپPope. کی تیز طنز اور سوئفٹ Swift کی رمز سے بھر پور نثر کے علاوہ گولڈ اسمتھGoldsmith.شیریڈن Sheridan. کے قہقہہ بار ناول
فیلڈنگFielding کی سنجیدہ رمز اور سٹرنؔ Sterne. کا ہمدردانہ مزاح ، ایڈیسنAddison اور اسٹیلSteele. کے پر لطف انشائیے خالص مزاح کے
بہترین نمونے ہیں۔ اٹھارویں صدی میں جو دو نام سامنے آتے ہیں ان میں سے ایک چارلس لیمب Charles Lamb. اور دوسری جین آسٹن
Jane Austen ہیں۔ جن کی تحریروں میں خالص مزاح نکھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
انیسویں صدی انگریزی ناول کے عروج کا زمانہ ہے۔ چارلس ڈکنسCharles Diknas. جسے کردار نگاری کا بادشاہ کہا جاتا ہے ،کے ناولوں میں مزاح ، کردار
کے مزاح سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ اسی دور میں تھیکرےThackery.کے مزاح کا مخصوس رنگ بھی دکھائی دیتا ہے۔ اس نے پہلی بار نثر میں تحریف کو بڑی
خوبی سے نمایاں کیاہے۔ پی کاکPeacock. کے ناولوں میں بھی مزاح کار فرما ملتا ہے۔
شاعری میں کالورلےCalverley. ستیفن Stephen.، اسکوائرSquireاور سون برن Swin Burne نے مزاح کو پروان چڑھایا ہے۔
ملکہ وکٹوریہ کے دورِ حکومت کے درمیانی دور میں انگریزی مزاح نے ایسی روش اختیار کی جسے ’’بے معنی مزاح‘‘ Humour non-senseکہا جاتا ہے۔
جسے ایڈورڈ لئیرEdward Lear لیوس کارول Lewis Corroll. اور گلبرٹ Gilbert. نے عام کیا۔
اب بیسویں صدی میں انگریزی ادب میں خالص مزاح کا رنگ نکھرنے لگا۔ جیکب Jacobe ، جیروم۔کے۔جیرومJerome-K-Jerome سٹیفن
لی کاکStephen Leacock. وڈ ہاؤس Wood Houseاور مارک ٹوئینMark Twine نے اس کو فروغ دیا۔
آئیے اب طنز و مزاح کے اعتبار سے فارسی ادب کا جائزہ لیں جو اردو ادب کی نشو و نما میں اہم کردار ادا کرنے والی زبان ہے۔ فارسی ادب میں طنز و مزاح کے تدریجی
ارتقاء کا قطعیء فقدان ہے اور کوئی طنز نگار یا مزاح نگار بھی نظر نہیں آتا۔ جس کا تذکرہ ادب میں پیدا ہوا وہ محض (ہنگامی فرار) کی حیثیت رکھتا ہے۔ جبکہ بیشتر فارسی
ادباء نے طنز و مزاح کی بجائے ہجو کو اپنا شعار بنایا۔ہجو میں پہلا نام رودکیؔ اور دوسرا فردوسیؔ کا آتا ہے۔ رودکیؔ کی ہجو گوئی میں متانت اور واقعیت پائی جاتی ہے۔ چھٹی
صدی عیسوی میں انوریؔ اور سوزنیؔ کے ہاں ہجو کا مزاج تیز پایا جاتا ہے(شبلی نعمانی ۔ شعر العجم حصّہ اوّل صفحہ 181)
گویا سوزنیؔ اور انوریؔ کے ہاں ہجو اوباشوں کی زبان بن گئی۔جبکہ اسما عیل خلاق المعانی اصفہانی نے اس میں اعتدال اور توازن پیدا کیا۔ انہی کے معاصر مسلمان ساوجی
نے بھی ہجویات لکھیں۔
فارسی ادب میں طنز و مزاح کا دوسرا دور زاہد سے چھیڑ چھاڑ اور رندی و سرمستی کے اشعار کی صورت میں شروع ہوا ۔اس سلسلہ میں پہلا نام عمر خیام کا ہے۔
خدا کے ساتھ ساتھ شریر لڑکوں کا سا برتاؤ اس کے بہت سے اشعار میں موجود ہے۔ لیکن اس ضمن میں اولیت کا سہرا شیرازی کے سر ہے۔ سعدی نے اسی انداز کو
ذرا چھپا کر پیش کیا۔ ان کے بعد حافظؔ اور خسروؔ کا دور آتا ہے۔ مگر اہم نام حافظ شیرازی کا ہے۔ ان کے کلام میں مسرت و ہجت اور زاہد و محتسب پر برجستہ اور مہذب
چوٹیں پائی جاتی ہیں۔
طنز و مزاح کا تیسرا دور پیروڈی یا تحریف کا ہے۔ فارسی ادب میں عبید زاکانی دیو اسحاق اطمعہ اور نظام الدین محمود قادر یزدانی البسہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ براؤنؔ
کے قول کے مطابق ان کی تحریفات میں سے بیشتر نچلے درجے کی ہیں۔ Brown-Litrary History of Persia-Vol III P-299))
ان میں سے اہم تحریف نگار ابو اسحانی اطمعہ ہیں جنہوں نے بہت سے فارسی شاعروں کا کلام تحریف کیا ہے۔ان کی بیشتر تحریفات ان کی کتاب’’کنز الشتہا‘‘ میں
موجود ہیں

(۷)
فارسی ادب میں طنز و مزاح کا آخری دور 1906 سے 1909تک ہے۔ اس دور میں پہلی خصوصیت یہ ہے کہ طنز و مزاح پر ایران میں سیاسی بیداری نے نمایاں اثر
ڈالا۔ اور دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس پر پہلی بار مغربی نظریات کا اثر ہوا۔ آج کے فارسی ادب اور صحافت میں طنز و مزاح کے سلسلے میں مرزا علی اکبر و بخدا کا نام
قابلِ ذکر ہے۔ انہون نے اپنے ملک کے ان طبقات کو زیادہ تر ہدفِ طنز بنایا جو ایران کی ترقی کی راہ میں حائل تھے۔
اس جملے میں کس قدر حقیقت ہے کہ زندگی درد و غم کا دوسرا نام ہے۔ انسان کمزور مگر حساس ہے جبکہ اس کا ماحول لاپروا ہے۔ مگر انسان اپنی تمام تمناؤں، امنگوں
اور آرزوؤں کو پورا کرنے کے لئے ہر قسم کا عملی قدم اٹھانے کے لئے تیار رہتا ہے۔ وہ زندگی کی تلخ حقیقتوں کو وقتی طور پر بھولنے کی کوشش میں طنز و مزاح کا
سہارا لیتا ہے۔ زندگی تلخ حقائق کا مرقع ہی کیوں نہ سہی اس کے باوجود اسے ہنسنے والا جانور بھی کہا جاتا ہے۔ فطرت نے انسان کو ہنسی کا مادہ عطا کیا ہے اور یہی ہنسی
ہماری صحت کے لئے ضروری ہے۔ہنسی عموماٌ عدم تکمیل ،بے ڈھنگے پن اور غیر متناسب اشیاء کے احساس کا نتیجہ ہے۔بے حس آدمی کو ہنسی نہیں آتی۔ اس لئے
ادب میں اس کا وجود بھی ناگزیر ہے۔ چونکہ ہنسی انسانی زندگی کا ایک اہم عنصر ہے اس لئے ادب ہنسی کا بھی ترجمان ہے۔ پس ادب میں طنز و مزاح کی اسی قدر ضرورت
ہے جس قدر زندگی کے رقت آمیز پہلو کی۔ انسان ہمیشہ سنجیدہ زندگی بسر نہیں کر سکتااور نہ ہی سدا سنجیدہ اور مشکل تحریروں کو پڑھ سکتا ہے۔ اسے تفریح طبع ،
دل بہلانے اور دماغ میں شگفتگی پیدا کرنے کے لئے لطیف تحریروں کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ اس کے احساس کو خالص ظرافت سے بھر پور تحریروں کی
ضرورت ہوتی ہے جو اسے تھکن ، یک رنگی اور دشواریء وقت سے نجات دلا سکے۔ خالص ظرافت نگاری انسانی احساس کے پیشِ نظر اپنی تحریر کو دلچسپ تر بنا کر
پیش کرتا ہے۔
ظرافت یا طنز و مزاح کا ایک پہلو ہجو گوئی بھی ہے۔ جس کا پہلے ذکر کیا جا چکا ہے۔ تاہم یہاں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ظرافت نگار اور ہجو گوئی کی راہیں جدا جدا ہیں۔
ظرافت نگار ایک صناع ہے جو اپنے جذبات کو قابو میں لا کر صنعت کارانہ اظہار کرتا ہے۔ مگر جذبات کی شدت میں کمی نہیں ہوتی۔اس کے بر عکس ہجو گو ایک بلند پایہ
اخلاق کا حامل ہوتا ہے۔ وہ انسانی کمزوریوں ،خامیوں اور فریب کاریون کو اپنی طنز کا نشانہ بناتا ہے۔ ظرافت نگار کے معاملہ میں اس کی جذباتی دنیا زیادہ وسیع و کشادہ
ہوتی ہے۔
اردو میں ہجو یہ شاعری کو زیادہ فروغ نہ ہوا۔ خالص ہجو میں سوداؔ ، مسکینؔ اور صنامکؔ نے طبع آزمائی کی۔ لیکن وہ کچھ آگے نہ بڑھ سکے۔ انشاءؔ اور مصحفیؔ کی ہجویں ذاتی
بغض و عناد کی ترجمان تھیں۔ اودھ پنچ کے سلسلہ میں شہبازؔ اور ظریفؔ نے اس صنف میں طبع آزمائی کی۔ اردو میں صرف چار شعراء ایسے ہیں جن کی ہجویہ نظمیں
قابلِ ذکر ہیں۔یعنی سوداؔ ، اکبرؔ ، اقبال ؔ اور جوشؔ ۔بقول رشید احمد صاحب ’’بہترین طرز کی اساسی شرط یہ ہے کہ وہ ذاتی عناد و تعصب سے پاک اور ذہن و فکر کی
بے لوث برہمی یا شگفتگی کا نتیجہ ہو‘‘۔ اس معیار پر سوداؔ کی ہجویں تمام و کمال پوری نہیں اترتیں۔ ہجو گو انسان ایک برہم انسان ہے اور اس کی برہمی بے لوث نہیں
با لوث ہوتی ہے۔
بہترین طنز کی اساسی شرط یہ ہے کہ ذاتی جذبہ محض ذاتی نہ رہے بلکہ عالمگیر ہو جائے۔ سوداؔ میں ظرافت کا مادہ طنز پر غالب ہے۔ ظرافت کی اس ہمہ گیری کی
وجہ سے ان کی نظموں میں شدتِ جذبات کی کمی ہے۔ سوداؔ کے بعد اکبرؔ کا نام آتا ہے۔وسعت و تنوع مضامین کے لحاظ سے اکبرؔ کو سوداؔ پر فضیلت حاصل ہے۔
اکبرؔ پرانے تمدن اور پرانے نظام کے پرستار تھے اور نئے تمدن اور نئے نظام کے نقائص کا انکشاف کرنا چاہتے تھے۔ اکبرؔ کا یہ کمال ہے کہ وہ مختصر پیمانہ میں تیر بہدف
ہجویں لکھتے۔ اسی لئے اکبرؔ کے رنگ نے قبولِ عام کی سند حاصل کی۔ اقبالؔ بھی اسی رنگ میں لکھنے والوں میں سے تھے۔ بعض جگہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ اقبالؔ نے
اکبرؔ کا تتبیع کیا ہے۔
اقبالؔ ،اکبرؔ کی نسبت زیادہ سنجیدہ اور متین تھے اس لئے ان کی ظریفانہ شاعری میں ہنسی مصنوعی معلوم ہوتی ہے۔ اقبالؔ نے خود محسوس کیا کہ وہ اس میں زیادہ
کامیابی حاصل نہیں کر سکتے تو جلد اس راہ کو ترک کر دیا۔ ظرافت کے دور میں جوشؔ خصوصی ذکر کے مستحق ہیں۔ جوشؔ میں ایک حد تک طنز و ظرافت کا مادہ
موجود ہے۔ مولوی ، خانقاہ اور شیخ میں یہ مذہب کی بعض صورتوں کی ہجو کرتے ہیں۔ لیکن ان کے خیالات ذاتی رہتے ہیں۔ عالمگیری اختیار نہیں کرتے۔ جوشؔ
اکبرؔ کی طرح مختصر نہیں بلکہ مسلسل اشعار یا نظمیں لکھتے ہیں۔ اردو نثر میں طنز و ظرافت کی وہ کمی نہیں جو نظم میں ملتی ہے۔اس افراط میں بیسویں صدی کے
لکھاریوں کا ہاتھ نظر آتا ہے۔ظرافت نگاری میں مصنفین اور انشاء پردازوں کو تین گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

(۸)
پہلا گروپ: وہ گروپ المصنفین ہے جن کا نصب العین ہی خالص ظرافت ہے۔ اس میں پہلا نام غالبؔ کا آتا ہے۔ ابھی تک اردو میں خالس ظرافت کے
نمونے جو ادبی معیا ر پر پورے اتریں ،وہ غالبؔ کے معیار سے بہتر نہیں۔ بلکہ یہپ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ کسی کا تخیل بھی غالبؔ کے تخیل کی باریکی ، تیزی ، زور
اور بلند پروازی کو نہیں پہنچتا۔ظرافت ان کی فطرت ثانی تھی۔ اس کی شوخی سے تو خطوط بھرے پڑے ہیں جس کے ساتھ متانت و سنجیدگی بھی موجود ہے۔
غالبؔ صرف ہنسنے ہنسانے پر قادر نہ تھے وہ رونے رلانے پر بھی قدرت رکھتے تھے۔
غالبؔ کے بعد قابل ذکر نام سجاد حسین ،سرشار اور محفوظ علی کے ہیں۔ سجاد حسین اور سرشار نے حاجی بغلول اور فوجی کے کریکٹر پیش کئے جو اردو ادب میں ممتاز
حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن رشید احمد صاحب سنگین تنقید کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔’’ حاجی بغلول ایک طور پر ڈکنسؔ کے ’’پک وک ابراڈ‘‘ کا نامکمل اور ناقص چربہ ہے
جبکہ خواجہ حسن نظامی نے محفوظ علی کے بارے میں لکھا ہے ، ’’ نثر میں سب سے بہتر ظرافت لکھنے والے مولوی محفوظ علی صاحب ،بی۔اے۔ساکن بدایوں ہیں۔
ان سے زیادہ نیچرل اور بے ساختہ چلبلی اور سر تا پا مرصع ، رشید احمد صدیقی ،شوکت تھانوی اور عظیم بیگ چغتائی کافی شہرت رکھتے ہیں۔ مگر شوکت تھانوی اور عظیم
بیگ چغتائی کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں ہوئی،البتہ پطرسؔ کو دونوں پر ترجیح دی جا سکتی ہے۔ کیونکہ ان دونوں کی نسبت پطرسؔ کی ذہنیت کافی پختہ ہے۔ تاہم
پطرسؔ ، شوکت تھانوی اور عظیم بیگ چغتائی کی تحریروں میں نہیں۔ رشید احمد کا مخصوص عیب یہ ہے کہ وہ اکثر موضوع سے بہک جاتے ہیں۔ پھر بھی موجودہ
مزاح نگاروں میں سب سے زیادہ فطری صلاحیت رکھتے ہیں۔
دوسرا گروپ: اس گروپ میں وہ ظرافت نگار آتے ہیں جن کا مقصد اصلاح ہے۔ نواب سیّد محمد آزادؔ اور اکبرؔ کا نام اس گروپ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ نواب سیّد
محمد آزاؔ د نثر کے لکھاری تھے۔ اور اکبرؔ نظم کے۔ آزادؔ میں نہ وہ زورِ تخیل ہے نہ وہ قوتِ ایجاد جو اکبرؔ کا خاصہ ہے۔ آزاد میں تنوع نہیں جو اکبرؔ میں نظر آتا ہے۔
ان کے بعد ابو الکلام آزادؔ ، ظفر علی خاں اور ملا رموزی کے نام آتے ہیں۔ مولانا ابو الکلام آزادؔ حساس طبیعت کے مالک تھے ۔ضزبات و خیلات کی شدت سے وہ خود
بھی متاثر ہوتے تھے اور دوسروں کو بھی متاثر کرتے تھے۔ مولانا ابو الکلام آزادؔ کی تحریروں میں جو بات نمایاں ہے وہ مولانا ظفر علیخاں کی تحریروں میں نہیں۔
ملا رموزی کا موضوع محض سیاسیات ہی نہیں اس لئے ان کے مضامین میں تنوع پایا جاتا ہے۔ ملا رموزی نے ظریف طبیعت پائی تھی۔ انہوں نے سیاست ،مذہب
تہذیب و تمدن ، اخلاق و معاشرت اور ادب و قومیت کے نکتوں پر بحث کی ہے۔ پروفیسر عبدالقادر سروریکی رائے ہے کہ ’’ملا رموزی کی ہمیشہ رہنے والی تحریروں
میں بہت کم ایسی ملیں گی جن میں ظرافت صرف ظرافت کی خاطر کا اصول مد نظر رکھا گیا ہو۔‘‘ ملا رموزی کی تحریروں میں چند عیوب بھی ہیں جن کی جانب
رشید احمد صاحب نے اشاری کیا ہے مثلاٌ ’’ وہ اس حقیقت کو فراموش کر جاتے ہیں کہ سب باتیں لکھنے کی نہیں ہوتیں۔یا ان الفاظ اور لہجہ میں نہیں لکھنا چاہئیے
جن میں ملا آحب لکھنے کے عادی ہیں۔ ‘‘
تیسرا گروپ: یہ وہ انشاء پرداز ہیں جن کی ظرافت میں فلسفیانہ رنگ ہوتا ہے۔ جو اپنے فلسفہء زندگی کو ظرافت اور طنز کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔
اس گروپ میں سلطان حیدر جوشؔ ، اور سجاد علی انصاری کے نام قابل ذکر ہین۔ سلطان حیدر جوشؔ ،انگریزی مصنفوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ لہٰذا فلسفہ کی آمیزش کی
وجہ سے ان کی ظرافت میں گہرائی آ جاتی ہے۔ تاہم تحریرون مین ساختگی ، بر جستگی کی کمی ہے۔ وہ محض ہنسنے ہنسانے کو ترجیح نہیں دیتے اور نہ ہی سستی شہرت چاہتے
ہیں۔ اس لئے وہ عام فہم اور عام پسند قسم کی چیزوں سے احتراز کرتے ہیں۔
سجاد علی انصاری میں ذمہ داری کا مادہ دیگر نوجوان انشاء پردازوں سے زیادہ ہے۔ مگر ان کے فلسفے میں جو سلطان حیدر جوشؔ جیسا تو ہے مگر اس میں وہ پختگی اور گہرائی
نہیں البتہ متانت و سنجیدگی موجود ہے۔ طنز و ظرافت کے میدان میں رہرو تو بہت ہیں مگر سوداؔ ، اکبرؔ ، غالب ، سرشارؔ اور ابولکلام آزادؔ اس کی بقاء کے ضامن ہیں۔
طنز و مزاح پر اس قدر طویل بحث کا مقصد مسیحی لکھاریوں کو ادب کی اس موثر صنف کی طرف متو جہ کرنا ہے جس کا مسیحی ادب میں فقدان ہے۔ مذہبی شاعری،
عشقیہ شاعری ، اخلاقی اور قومی شاعری ، آزاد اور پابند شاعری کے علاوہ قطعہ ، اور رباعی میں خوب خوب مشقِ سخن کی گئی ہے۔ اسی طرح نثر نگاری میں ناول ، ڈرامہ
افسانہ اور انشائیہ میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی لیکن ادب کی اس صنف کا اشارہ کہیں نظر نہیں آتا۔ اگر مسیحی لکھاری بھی اس فن کے امکانات و مقاصد کو
سمجھیں اور اس میں طبع آزمائی کریں تو بہترین اصلاحی تحریریں منظر عام پر آ سکتی ہیں۔
اقبال بسملؔ


 

 

 
   

 home page - index

top               «      »