حلقہِ
ارباب ذوق
(اٹلی)
بہ اشتراک :
مجلسِ
اقلیتی
مُصنفین
جنوبی
ایشیا (اٹلی)
اور حلقہِ
ادب و
ثقافت(اٹلی)
کی
جانب سے
جشنِ اگست
کے سلسلہ
میں
اردوادبی
سمینار
،مشاعرے ا
ور ثقافتی
تقریبات
(پروگرام)
جولائی۲۱۔۲۲
۔۲۳ ،۲۰۱۰
۔بروز
بدھ،جمعرات
اور جمعہ(اٹلی) ۲۴ اور ۲۵جولائی،
۲۰۱۰ (سوئیٹزرلینڈ)
بروز
ہفتہ،اتوار
Venue: Centro
Giovanile"Ex-Macello":
Via Mazzini 4,43036 Fidenza(PR)Italy.

Ayub Khawar
Haider
Qureshi IfetkharNasim
Ifti
Afzaal Firdous
Bushra Malik,
Dr.Jamal Malik,
Frhat Parveen ,
Jeem Phey Ghauri, Mahjabeen
Ghzal
Parvez Iqbal
Nadeem Naseem
جیم
فے غوری(اٹلی)
Contact:Jeem Phey Ghauri
President
and organizer programme (SAMWA),(SACWA)
Main
Office: Via S.Martino 5, 43036-Fidenza(PR), ITALY.
Tel&Fax:+39
0524 202250 / Cell +39 329 1627240
Emails:
Jeemghauri@alice.it
/ sacwait@alice.it /
amennews@alice.it
Web
Sites: www.sacwapakistan.org
/ www.amenews.org
HALQA-E-ARBAB-E-ZOuQ (
ITALY
)
With
the co-operation of
South
Asian Minorities Writer Association(
Italy
)
South
Asian Christian writers Association(
Italy
)
Celebrating
Pakistan Day celebations and
Pakistan
’s heritage promotion
programme and Urdu Adabi seminar.
Programme
July
21 to 23, 2010.Wednesday,Thursday and Friday in
Italy
.
July
24 to 25,2010. Saturday and Sunday in Swiss
July
21,Wednesday at 3.00pm.
Opening of the celebrations:City
Mayor of Fidenza Sig.Mario cantini and XMayor Sig.Cerri
Giuseppe
Chief Guest:
Ambassador
of
Pakistan
to
Rome
.
Welcome and Keynote Address:
by
Jeem Phey Ghauri(
Italy
)
Compareing
and translation by:
Nadeem Naseen , Parvez Iqbal
,Muhatarma Bushra Malik , Muhatarma Mahjabeen Ghzal
An
Evening of Prose Literature:
Presided By:
Dr.Razia Ismaeel (
UK
)
Chief Guest: :Muhatarma Frhat Perveen(
USA
) and Bushra Malik(
Germany
) Host
by:Muhatarma Mahjabeen Ghzal Insary(
UK
)
Participants:
Mr.Haider Qureshi(Germany),Dr.Afzaal Firdous(USA), Mr.Ayub Khawar(Pakistan)
Mr.Prakash Jagdish(India), Mr.Nasar Malik (Denmark),Mr.Parvez
Iqbal(Holland)
Mr.Ahmed Naseer Malik, Mr.Younas Javed, Mr.Sabir Mutto, Mr.Mushtaq
Mr.Jeem Phey Ghauri Mr.Amjed Frooq,
At 5.00pm
An
Evening With Great poet and Intellectual Dr.Afzaal Firdous
(USA)
Presided by:
Mr.Ayub
Kahwar(
Pakistan
) Chief Guest:Dr.Ifetkhar
Naseem Ifti(
USA
) and Tasneem Hassan(
UK
)
July
22 Thursday at 1.00pm
Symposium:Theme,
“Situation of Urdu language in Western World”
Preside by:
Mr Haider Qureshi(Editor Jadeed Adab
Germany
)
Chief Guest:Prof.Dr.Jamal
Malik (
Germany
) and Mr.Naser Malik(
Denmark
)
Moderator:Mohatrma
Bushra Malik(
Germany
)
Eassy by: Aziza Khawar, Zaira Khawar,Jeem Phey Ghauri,Naseer Ahmed Malik,
Parvez Iqbal,Tasneem Hassan,Dr.Razia Ismaeel, Naser Malik,
Ayub Khawar,and Haider Qureshi
At 5.oopm
World
contending within poetry ( Mahfil-e-Mushaera)
Presided by:Ayub Khawar(
Pakistan
) Chief Guest:Mr.Haider Qureshi(
Germany
) and Dr.Afzaal Firdous(
USA
)
Comparing by:Iftekhar Naseem Ifti(
USA
),Mr.Parvez Iqbal(
Holland
)
Guest
Poets:
Ayub Kahwar, Iftekhar Naseem Ifti(USA),Muhatarama Farhat Parveen,Muhatarama
Dr.Razia Ismaeel,Muhatarama majbeen Ghazal,Mr.Prakash
Jagdish(India),Mr.Raja Yousaf, Mr.Nasar MalikTsnim Hassan(Germany)Muhatarama
Sughra Sadaf, Mr. Parvez Iqbal,Mr.Jeem Phey Ghauri,Mr.Ahmed
Naseer Malik, Mr.Amjid Frooq, Mr.Sabir Mutto
Music and poetry
July
23 Friday 2010 at 3.00pm
An
Evening with Mr.Haider Qureshi(Editor Jadeed Adab
Germany
)
Presided by:
Ayub Khawar(
Pakistan
) Chief Guest:
Dr.Afzaal Firdous (
USA
) and Dr.Razia Ismaeel (
UK
)
At 5.00pm
Pakistan
Independance Day celebrations: (Our Country)
Presided by:
Honourable Consulate General of
Pakistan
(
Milano
,
Italy
) Mr.Taeiq Zameer
Chief guest:
Iftekhar
Naseem Ifti(USA) and Nasar Malik
Host By:.Pervez Iqbal(
Holland
) and Mariam Ashi(
Pakistan
)
Speakers:Aziza Khawar(Education Expert, Pakistan) Zaira
Khawar(New generation and Urdu language, Pakistan)Johanson
Michael(Chairman Bishop John Joseph ShaheedTrust,Pakistan)
Theme: Minorities and Urdu Literature, Mariam Ashi,Theme:
New generation and Pakistan day(Pakistan)
Music and
poetry
July
24 Saturday at 9.00am
Depature
to
Switzerland
At 4.00pm
World
contending within poetry(Mahfil-e-Mushaera)
A celebration of silver Jublie(25th priest-hood) of Poet and
Journalist
Rev.Fr.
Zacheria Ghauri(
Pakistan
)
Presided by:
Mr.Haider Qureshi and Chief Guest: Dr.Afzaal Firdous and
Ayub Khawar
Special Guest:
Zacheria Ghauri
Host by: Iftekhar Naseem Ifti(
USA
), Mr.Parvez Iqbal(
Holland
)
Dinner….6.00pm
July
25 Sunday at 9.00am
Return
from Swiss to
Italy
and 26 to 28, 2010 tour of Historical places in
Italy
July
28 evening,Farewell (the end)
Joseph
Philip
جیم
فے غوری(اٹلی)
Pen Name:Jeem Phey Ghauri
President
and organizer programme (SAMWA),(SACWA)
Main
Office: Via S.Martino 5, 43036-Fidenza(PR), ITALY.
Tel&Fax:+39
0524 202250 / Cell +39 329 1627240
Emails:
Jeemghauri@alice.it
/ sacwait@alice.it /
amennews@alice.it
Web
Sites: www.sacwapakistan.org
/ www.amenews.org
بھارتی
مصور کی
پینٹنگ
کروڑوں
میں
فرانس
میں مقیم
انڈیا کے
مصور سید
حیدر رضا
کی ایک
تصویرچوبیس
لاکھ
پاؤنڈ میں
فروخت
ہوئی ہے۔
انیس
سو پچاس
سے فرانس
میں مقیم
سید حیدر
رضا نے یہ
تصویر
انیس سو
تراسی
میں
بنائی
تھی۔
اٹھاسی
سالہ
حیدر رضا
گو کئی
دہائیوں
سے انڈیا
سے باہر
مقیم ہیں
لیکن ان
کا اپنے
ملک سے
گہرا کا
تعلق ہے
اور یہ
تصویر ان
کا اپنے
وطن کے
لیے
نذرانۂ
عقیدت
تھا۔
تصویر کا
نام
سوراشٹرہے۔
لندن میں
نیلامی
گھر کے
حکام کے
مطابق اس
تصویر کی
قیمت کسی
بھی جدید
بھارتی
پینٹنگ
کے لیے
ایک
ریکارڈ
ہے۔
پینٹنگ
کو لندن
میں
منعقد
ہونے
والی
نمائش
میں ایک
بھارتی
عجائب
گھر نے
خریدا
ہے۔
اس سے
پہلے یہ
ایک
فرانسیسی
کے پاس
تھی جس نے
اسے براہ
راست
مصور سے
حاصل کیا
تھا۔
ہائیڈل
برگ
یونیورسٹی
میں ڈاکٹر
ستیہ پال
آنندکے
اعزاز میں
تقریب
ڈاکٹر
کرسٹینا
اوسٹر
ہیلڈ کی
زیر
صدارت
ہائیڈل
برگ
یونیورسٹی
کے جنوبی
ایشیائی
انسٹی
ٹیوٹ میں
ایک پُر
وقار
ادبی
تقریب
ہوئی۔اس
تقریب
میں
ڈاکٹر
ستیہ پال
آنند(امریکہ)،صدف
مرزا(ڈنمارک)
اور باقر
رضا زیدی(پاکستان)
مہمانانِ
خصوصی
تھے۔حیدر
قریشی نے
اسٹیج
سیکریٹری
کے فرائض
انجام
دئیے۔آغاز
میں حیدر
قریشی نے
ایک
مضمون کی
صورت میں
مہمانانِ
خصوصی
اور جملہ
شرکاء کا
خیر مقدم
کیا۔اس
کے بعد
مشاعرے
کا دور
ہوا جس
میں
جیتندر
دت(برلن)،ارم
بتول(ہائیڈل
برگ)،عاطف
توقیر(بون)،شہزاد
ارمان(ہائیڈل
برگ)،طاہرہ
رباب(ہمبرگ)،راجہ
محمد
یوسف(فرید
برگ)،طاہر
عدیم(اوفن
باخ) اور
مہمانانِ
خصوصی
باقررضا
زیدی،صدف
مرزا اور
ڈاکٹر
ستیہ پال
آنند سے
ان کا
کلام سنا
گیا۔شعرائے
کرام نے
عمدگی سے
اپنا
کلام پیش
کیا اور
حاضرین
نے مناسب
طور پر
داددی۔
مشاعرے
کے دور کے
بعد
یونیورسٹی
میں
اقبال
چئیر کے
پروفیسر
ڈاکٹر
وقار علی
شاہ نے
اظہار
خیال
کیا۔انہوں
نے اقبال
کی شاعری
میں اُس
زمانے کے
افغانستان
کا ذکر
کیا اور
پھر آج کے
افغانستان
اور
پاکستان
کے پختون
علاقوں
تک کی
صورتحال
کا ذکر
کرتے
ہوئے
بتایا کہ
یہ اقبال
کے زمانے
سے بھی
زیادہ
تشویشناک
ہو چکی
ہے۔اس
تقریر کے
بعد
کھانے
اورچائے
کا وقفہ
دیا گیا۔
وقفہ کے
بعد
مہمانانِ
خصوصی کے
ساتھ اور
خاص طور
پر ڈاکٹر
ستیہ پال
آنند
صاحب کے
ساتھ
ادبی
مکالمہ
کا موقعہ
فراہم
کیا
گیا۔تاہم
اپنی
عمراور،مسلسل
سفر کی
تکان کے
باعث وہ
یکسو
نہیں رہ
پائے
تھے۔حاضرین
کی طرف سے
میڈیا کی
اثر
آفرینی
اور ادب
کے
معاملہ
میں لا
تعلقی کے
حوالے سے
سوال کیا
گیا لیکن
ڈاکٹر
ستیہ پال
آننداردو
کی ابتدا
کیسے
ہوئی کے
موضوع کی
طرف نکل
گئے۔صدف
مرزا نے
اس موقعہ
پر اصل
موضوع پر
توجہ
مرکوز
کرتے
ہوئے اس
کا مناسب
جواب دیا
اور
ڈاکٹر
کرسٹینا
نے مغرب
میں بھی
ادب اور
میڈیا کے
رشتے میں
لگ بھگ
ایک جیسی
صورتحال
کی نشان
دہی
کی۔راجہ
محمد
یوسف کی
طرف سے
ایک سوال
کے جواب
میں عروض
کی بحث
چھڑنے
لگی۔راجہ
یوسف نےتسکین
اوسَط
کہا تو
ڈاکٹر
ستیہ پال
آنند نے
کہا کہ س
پر زبر
نہیں
ہے،جزم
ہے۔راجہ
یوسف نے
یہ جانتے
ہوئے بھی
کہ ڈاکٹر
ستیہ پال
آنند
مسلسل
سفر کی
تکان کے
باعث غلط
تلفظ بتا
رہے
ہیں،بحث
پر اصرار
کرنے کی
بجائے
مہمان ِ
خصوصی کے
احترام
میں
خاموشی
اختیار
کر لی۔اس
مکالماتی
حصہ
کوصدف
مرزا کی
دانشمندانہ
گفتگو
اور باقر
رضا زیدی
کی شرکت
نے زیادہ
بامعنی
بنایا۔دیگر
شرکائے
گفتگو
میں ارم
بتول،راجہ
یوسف،توقیر
عاطف،شہزاد
ارمان،ڈاکٹر
وسیم
احمد
طاہر اور
طاہر
عدیم
سرگرم
رہے۔
حیدر
قریشی نے
ڈاکٹر
کرسٹینا
کے تعاون
کا خصوصی
شکریہ
ادا
کیا،راجہ
محمد
یوسف،طاہر
عدیم،اور
بطور خاص
اہل قلمکے
شہزاد
ارمان
اور ارم
بتول کا
شکریہ
ادا کیا
جن کے
تعاون کے
باعث یہ
تقریب
نہایت پر
وقار اور
کامیاب
رہی۔
آخر میں
تقریب کی
صدر
ڈاکٹر
کرسٹینااوسٹر
ہیلڈ نے
اس تقریب
کی
کامیابی
کا تمام
تر کریڈٹ
حیدر
قریشی کو
دیتے
ہوئے کہا
کہ یہ
نہایت
کامیاب
تقریب
ہمارے
لیے بہت
خوشی کا
باعث
ہے۔آئندہ
بھی جب
حیدر
قریشی اس
انداز کی
تقریب
کرنا
چاہیں
ہماری
طرف سے
بھر پور
تعان
شامل رہے
گا اور
ہمارے
اردو کے
جرمن
نژاد
طلبہ اس
میں
بھرپور
شرکت
کریں گے۔
اس تقریب
کی
ریکارڈنگ
کے لیے
اپنا ٹی
وی چینل
کی طرف سے
خصوصی
انتظام
کیا گیا
تھا۔
جرمنی
میں آن
لائن
عالمی
مشاعرہ
القمرآن
لائن کے
نمائندہ
فرانکفرٹ
اور
ڈائریکٹر
میڈیا
اکیڈمی
کے مطابق 5مارچ2010کواکیڈمی
کی ویب
سائٹ
اہلِ قلم
ڈاٹ کام
www.ahleqalam.com کے
اعلان کے
مطابق
ریڈیو
پاک
سلونہ سے
عا لمی
مشاعرے
کے سلسلے
میں
ریڈیو کے
مشہورمیزبان
حافظ
احمد نے
شاعر ی
اور
موسیقی
کا
پروگرام
پیش
کیا،جس
میں
پاکستان،کینیڈا،آسٹریلیااور
جرمن میں
مقیم
شعراء
اور
شاعرات
نے شرکت
کی۔
سب سے
پہلے
معروف
شاعرہ
اورادبی
شخصیت
محترمہ
تسنیم
کوثر کو
پاکستان
لاہور سے
مدعو کیا
گیا۔جنہوں
نے ا پنی
فیض احمد
فیض سے
وابستگی
کا ذکر
کیاْ ۔اس
کے بعد
سامعین
کو اپنے
کلام سے
نوازا۔پھر
ریحانہ
قمر جنکی
شخصیت
اردو ادب
اور
شاعری کے
حوالہ سے
کسی
تعارف کی
محتاج
نہیں ہے۔
۔انہوں
نے اپنا
کلام سنا
کر
سامعین
کو محفوظ
کیا۔
آسٹریلیا
سے شاعری
کے حوالے
سے معروف
شاعرہ
محترمہ
فریدہ
لاکھانی
کو شامل
کیا
گیا۔جنہوں
نے اپنے
ادبی سفر
پر مختصر
روشنی
ڈالی۔اپنے
کلام سے
مشاعرے
کو رونق
بخشی۔
ارشاد
ہاشمی جو
کہ جرمنی
میں مقیم
ہیں اور
ایک لمبے
عرصے سے
فروغِ
علم وادب
کے لیے سر
گرمِ عمل
ہیں۔
ادبی و
ثفاقتی
تنظیم فن
و ادب کے
بانی
ممبر اور
چئر مین
ہیں،کو
شامل کیا
گیا
انہوں نے
کہا کہ
بزمِ
اہلِ قلم
نے دنیا
کے ہر
کونے سے
اردو کے
شعراء کو
اپنا
کلام
سنانے کا
موقع
فراہم
کیا
ہے۔انہوں
نے اہلِ
قلم کی
ٹیم کی
کاوشوں
کو
سراہتے
ہوئے
توصیفی
کلمات سے
نوازا۔بعد
ازاں
کلام پیش
کیا
آخر میں
اہلِ قلم
کے روحِ
رواں اور
اکیڈمی
کے ڈپٹی
چیف
ایگزیکٹو
شہزاد
ارمان کو
پروگرام
میں شامل
کیا گیا۔
شہزاد
ارمان نے
تمام
شرکاء کا
شکریہ
ادا
کیا۔اور
اپنا
تازہ
کلام
سامعین
کے گوش
گزار
کیا۔اس
طرح حافظ
احمد کی
میزبانی
میں
ریڈیو
پاک
سلونہ سے
پیش کیے
جانے
والا یہ
عالمی
مشاعرہ
اپنے
اختتام
کو
پہونچا۔دورانِ
پروگرام
موسیقی
پیش کی
گئی ۔
***********************************************************************************
پاکستان
میں دو
روزہ
کراچی
ادبی
میلہ
جاری ہے
جس میں
دنیا کے
کئی
ملکوں سے
آئے ہوئے
انگریزی
اور اردو
کے
پاکستانی
اور غیر
پاکستانی
ادیب
شریک
ہیں۔
انگریزی
کی معروف
ادیبہ
بپسی
سدھوا
میلے کے
دوران
اپنی
کتابوں
پر دستخط
کر رہی
ہیںگ
پہلے
دن کی
مختلف
تقریبات
میں ادب
اور
ایکٹوازم
سے ادب
اور مزاح
اور اردو
کی
مجموعی
صورتحال
جیسے
موضوعات
پر کھل کر
گفتگو کی
ہے۔کراچی
ادبی
فیسٹیول
کے نام سے
ہونے
والے اس
میلے کی
نشستیں
مقامی
ہوٹل کے
تین
مختلف
ہالز میں
ہوئیں۔
صبح کی
نشست میں
مہارانی
ہال میں
رش دیکھا
گیا۔ ہال
میں اندر
داخل
ہونے سے
معلوم
ہوا کہ
معروف
ناول
نگار
بپسی
سدھوا
اپنے
ناول سے
چند
اقتباسات
پڑھنے کے
بعد
حاضرین
کے
سوالات
کے جواب
دے رہی
تھیں۔بپسی
سدھوا سے
پوچھا
گیا کہ ان
کا ’واٹر‘
نامی
ناول
لکھنے کا
تجربہ
کیسا رہا
تو انہوں
نے جواب
دیا کہ یہ
برضغیر
میں یہ
پہلا
موقع ہے
کہ فلم
دیکھنے
کے بعد اس
موضوع پر
کتاب
لکھی گئی
ہے ورنہ
ہمیشہ
فلمیں
ناولوں
پر ہی
بنتی
ہیں۔
کراچی
ادبی
میلے کی
ایک اور
نششت کے
دوران
پاکستانی
شاعر
افتخار
عارف اور
اردو کے
ممتاز
نقاد،
افسانہنگار
اور شاعر
شمس
الرحمٰن
فاروقی
بپسی کا
کہنا تھا
کہ انہیں
اپنی
تمام
کتابیں
اس طرح
عزیز ہیں
جیسے
والدین
کو اپنی
اولاد
مگر ’کرو
ایٹرز‘
اور ’آئیس
کینڈی
مین‘ ان کی
دل سے
زیادہ
قریب تر
ہیں۔
پاکستان
میں پہلی
مرتبہ اس
نوع کے
میلے کا
انعقاد
ہوا ہے۔
آکسفرڈ
یونیورسٹی
پریس کی
سربراہ
امینہ
سید نے بی
بی سی کو
بتایا ہے
کہ انہیں
جے پور
ادبی
میلے میں
شرکت کے
بعد خیال
آیا کہ اس
طرح کا
ادبی
میلہ
کراچی
میں بھی
ہونا
چاہیے
جہاں
کتابیں،
مصنفین
اور
پڑھنے
والے ایک
جگہ جمع
ہو سکیں
اور ایک
دوسرے سے
ملاقات
کرسکیں۔
منتظمین
کا کہنا
ہے کہ
میلے میں
امریکا،
برطانیہ،
انڈیا
اور دیگر
ممالک سے
لکھاریوں
کی ایک
بڑی
تعداد
شرکت کر
رہی
ہے۔کراچی
ادبی
میلے کے
پہلے دن
ادب اور
ایکٹوازم
کے موضوع
پر پینل
گفتگو
ہوئی۔ اس
گفتگو
میں
معروف
شاعرہ
فہمیدہ
ریاض،
عارفہ
سیدہ
زہرہ،
محمد
حنیف اور
انڈیا سے
ٹی
ویپرورگرام
کے
میزبان
شنیل
سیٹھی
شریک
ہوئے۔گفتگو
میں شامل
مصنفین
نے کہا ہے
کہ جمود
کو توڑنا
ایکٹوازم
کا نام
ہے۔ دہشت
اور
فرسودہ
روایات
کو توڑنا
ایکٹوازم
ہے۔
فہمیدہ
ریاض نے
کہا کہ
فیض احمد
فیض،
عصمت
چغتائی،
شیخ ایاز
اور
سعادت
حسن منٹو
اور حبیب
جالب
جیسے
مصنفین
اور
شاعروں
کی
تصنیفیں
ایکٹوازم
میں شامل
کی جاتی
ہیں۔
فیسٹیول
کے ایک
پروگرام
کے دوران
ممتاز
شاعرہ
فہمیدہ
ریاض،
ناول
نگار
محمد
حنیف اور
انڈیا سے
آئے ہوئے
مہمان
سنیل
شیٹی
فہمیدہ
ریاض نے
کہا کہ
فیض احمد
فیض آخری
دن تک
کمیونسٹ
پارٹی آف
پاکستان
کے رکن
تھے۔ ان
کے مطابق
اگر کوئی
اس حقیقت
کو قبول
نہیں کرے
گا تو وہ
دوسرے
دعوے کی
مزاحمت
کریں
گی۔ہال
میں
موجود
ایک
خاتون نے
اضافہ
کیا کہ
قراۃ
العین کو
سابق
فوجی
حکمران
ایوب خان
اور قدرت
اللہ
شہاب نے
جب ناول
آگ کا
دریا سے
چند باب
حذف کرنے
کے لیے
کہا تو
انہوں نے
ہمیشہ کے
لیے
پاکستان
چھوڑ
دیا۔
قراۃ
العین کا
یہ قدم
بھی ایک
طرح کی
ایکٹوازم
تھا۔محمد
حنیف نے
کہا کہ
ضیا
مارشلا
کے دوران
اصل
ایکٹو تو
وہ
کارکنان
تھے جو
فوجی آمر
کے خلاف
میدان
عمل میں
تھے مگر
انہوں نے
ناول بھی
اس پس
منظر میں
لکھا ہے۔
ادب اور
ایکٹوازم
کی گفتگو
میں فیض
احمد فیض
اور حبیب
جالب سے
لیکر
منٹو کے
پاگل
خانے
جانے تک
کے حالات
پر گفتگو
کی گئی۔
عارفہ
زہرہ نے
کہا کہ
ملا تو
ہمیشہ
الٰہی سے
زیادہ
ظلِ
الٰہی کے
احکامات
قبول
کرتا رہا
ہے۔
لندن
سے ادبی
میلے میں
شریک
انگریزی
کہانی
اور ناول
نگار
عامر
حسین
کراچی
ادبی
میلے کے
پہلے دن
ایک اور
ہال میں
ادب اور
مزاح کے
موضوع پر
گفتگو کی
گئی ہے ۔
آصف
نورانیاور
سرفراز
منظور نے
کہا ہے کہ
مزاح کا
ادب سے
گہرا
تعلق ہے
مگر
پاکستانی
معاشرے
میں مزاح
ناپید
ہوتا جا
رہا
ہے۔گفتگو
میں شامل
بعض
مبصرین
کا خیال
تھا کہ
مزاح کا
تعلق
سماجی پس
منظر سے
زیادہ
ہے۔
انہوں نے
مثال دی
کہ مشتاق
احمد
یوسفی کی
تصنیفوں
کا
انگریزی
میں لطف
اٹھانا
کچھ مشکل
ہوتا ہے۔
ایک
برطانوی
طالبعلم
نے مثال
دی کہ ان
کی دادی
کہتی
تھیں، جب
دانت تھے
تو بادام
نہیں تھے
اور اب
بادام
ہیں تو
دانت
نہیں
ہیں۔ ان
کے مطابق
اس طرح کے
مزاح کا
اصل لطف
انہیں
صرف اردو
میں ملتا
ہے۔
کراچی
ادبی
میلے کے
پہلے دن
کے
اختتام
پر ایک
اردو
مشاعرہ
اور
تحریک
نسواں کے
سٹیج
تھیٹر،
سانگ آف
موھن جو
داڑو پر
شیما
کرمانی
اور ان کے
گروپ نے
کلاسیکل
رقص بھی
پیش کیا ہ
*******************************************************************************************

2
مجلسِ
اقلیتی
مصنفین
جنوبی
ایشیاء
جنوبی
ایشیاء کے
اقلیتی
شعراء و
ادباء اور
دانشوروں
و مفکرین
اور
صحافیوں
کا پلیٹ
فارم
چند
مرکزی
مقاصد۔
۱۔
جنوبی
ایشیاء
میں جنم
لینے والے(
موجودہ
رہائش
دنیا کے
کسی بھی
ملک میں ہو)
شعراء و
ادبا،
دانشور و
مفکرین
اور
صحافیوں
میں ہم
آہنگی کا
موُثر
ترین پلیٹ
فارم۔
۲۔کلاسک
اور جدید
ادب کو
تراجم کے
ذریعے بین
ا لا قوامی
سطح پر
متعارف
کرانا۔
۳۔ادب
تخلیق
کرنے
والوں کی
خدمات کا
اعتراف
ایوارڈز
کی صورت
میں کرنا۔
۴۔شعرا
و ادبا اور
صحافیوں
اور
دانشورں و
مفکرین کی
آڑے وقت
میں مالی
مدد کرنا۔
۵۔اہل
قلم کی
کاوشوں کے
عوض معقول
معاوضہ
ادا کرنے
کی صحت مند
اور
منصفانہ
روایت کی
بنیاد
رکھنا۔
۶۔جنوبی
ایشیاء کے
اقلیتی
اہل قلم
میں باہمی
رابطہ اور
تعاون کو
مستحکم
کرنے کے
لیے
سیمینارز
اور دیگر
تقریبات
منعقد
کرنا۔
۷۔ اہل
قلم کے
پیدا کردہ
ادب کی
اشاعت و
فروغ اور
ترویج کے
لیے
سنجیدہ
کاوشیں
کرنا۔
ادب کی
تخلیق و
تصنیف کے
لیے جامع
پروگرام
وضع کرنا۔
( اگر آپ
ایسوسی
ایشن میں
دلچسپی
رکھتے ہیں
تو آج ہی
رابطہ
کریں ہم آپ
کی تجاویز
اور تعاون
کے منتظر
ہیں)

SACWA-
اقلیتی
ایوارڈ
برائے ادب
2009 کا اعلان )نومبر
دو ہزار دس
( 2010 میں
پاکستان
میں ہو گا۔
ْ۔انعام
یافتہ اہل
قلم حضرات
کو ڈپلوما
، میڈل اور
انعامی
رقم سے
نوازا
جائے گا۔
۔فارم
بھیجنے کی
آ خری
تاریخ30
اپریل 2010 ہے
۔شعبہ
جات۔
1۔شاعری
2۔ناول
و افسانہ
3۔تحقیق
و تنقید
-4صحافت
3
نامزد
کرنے کا
طریقہ۔
sacwa
ادبی
انعام کے
لئے
اُمیدوار
نامزد
کرنے کا
اختیار
حاصل ہو
گا۔
۱۔sacwa
اراکین ،
اقلیتوں
کی
اکیڈیمز ،
ادارے ،
سوسائٹیز
،ایسوسی
ایشنز جو
ساکواہsacwa
جیسا
کام کر رہے
ہیں۔
۲۔اقلیت
سے تعلق
رکھنے
والے
اساتذہ جو
یونیورسٹی
یا کالج
میں ادب
پڑھا رہے
ہیں۔
۳۔اقلیتی
اہل قلم جو
انعام
یافتگان
ہیں۔
۴۔
اقلیتی
اداروں کے
سربراہ جو
ادب کی
اشاعت و
ترویج کے
لئے سرگرم
ِ عمل ہیں۔
باضابطہ
اعلان
*دسمبر۔اقلیتی
اہل قلم کو
مقابلہ
میں شرکت
کی دعوت،
*اپریل۔
کتب اور
قابلِ
ذکرکام
پُر شدہ
درخواست
فارم کے
ساتھ
ارسال
کرنے کی
آخری،
*جُون۔
اُمیدواروں
کی
ابتدائی
فہرست کا
اعلان
*ستمبر۔
جیوری کی
میٹنگ و
کانفرنس
اور
ایورڈز کے
لئے منتخب
ہونے
والوں کے
ناموں کا
حتمی
اعلان
*نومبر۔
تقسیم
ایورڈ کی
تقریب
*اس تقریب
میں انعام
یافتہ اہل
قلم
ڈپلومہ،
میڈل، اور
انعامی
رقم وصول
کریں گے
اور اپنا
خصوصی
مقالہ(۵صفحات
اے۴
سائز)
پڑھیں گے۔
*منشور کے
مطابق
ایسوسی
ایشن
نامزدگیوں
کے متعلق
کسی بھی
قسم کی
معلومات(چاہے
وہ خفیہ ہو
یا عام ہو)کا
انکشاف
پچاس(۵۰)
برس
تک نہیں
کرے گی۔
*یہ پاپندی
نامزد شخص
اور نامزد
کرنے والے
حضرات،
تحقیق اور
رائے دینے
والے اور
انعام کا
فیصلہ
کرنے
والوں پر
یکساں
لاگو ہو
گا۔
Contact Us
مرکزی
دفتر
(SACWA) Via S.Martino, 5,
43036-Fidenza(PR) ITALY٭
Tel.&Fax:+39 0524
202250 Cell:+39 329 1627240٭
Emails:
sacwait@alice.it
/ jeemghauri@yahoo.com٭
Web Site:
www.sacwapakistan.org٭