
جب تک چپ
ہے چپ
رہنے دے
،چھیڑ نہ
اس
دیوانے
کو
راز کی
باتیں
کھل
جائیں
گی، طول
نہ دے
افسانے
کو
ان کی
محفل سے
اٹھا تو ،
گھر کا
رستہ
بھول گیا
مئے خانے
کا ہوش
کسے ہے ،
آگ لگے
مئے خانے
کو
ہجر کی آگ
میں جل کر
جینا
کھیل ہے
ہم
دیوانوں
کا
جل مرنا
عرفان
نہیں ہے ،
سمجھا دو
پروانے
کو
کل تک
ہاتھ پکڑ
کر مجھ کو
میخانے
جو لاتا
تھا
کیا جانے
کیوں توڑ
رہا ہے آج
وہی
پیمانے
کو
جام پہ
جام
لنڈھائے
مینا
خالی کر
دی مستوں
نے
ایک ہی
گھونٹ
بچا تھا
بسملؔ جب
آئے
سمجھانے
کو
نئے
سال کا
بجٹ
نیا بجٹ
ہر سال کی
مانند
کہتے ہیں
آ نے والا
ہے
دکھ دور
کرے گا
لوگوں
کے،حل
ایسا
لانے
والا ہے
ہر ایک
ملازم کی
تنخواہ ،
پندرہ
فیصد بڑھ
جائے گی
ساتھ ہی
اس کے
چیزوں کی
قیمت
اوپر چڑھ
جائے گی
ٹیکسوں
کی بھر
مار سے
پھر،
غرباء کو
لوٹا
جائے گا
سر سے لے
کر پاؤں
تک،
اوکھلی
میں کوٹا
جائے گا
امراء ،
وزراء ،
سرمایہ
دار ، اور
سہولت
پائیں گے
ملک میں
صدر ،
وزیر
اعظم ،
خوشحالی
پھیلائیں
گے
بجلی کا
بلب
جلائیں
کیسے؟ ،
بل اتنا آ
جاتا ہے
اس پر طرہ
یہ کہ ہر
دم ریٹ
بڑھایا
جاتا ہے
بجلی گیس
کے نرخ
بڑھا کر
،لوگوں
کو
تڑپائیں
گے
پٹرول ،
تیل اور
ڈیزل تو
یہ لوگوں
پر
چھڑکائیں
گے
لوگ مریں
گے بھوکے
پیاسے،
پروا پھر
کس بات کی
ہے
ہر دن فکر
انہیں تو
رہتی بس
اپنی ہی
ذات کی ہے
بجٹ کی ر’و
سے
تنخواہ
میں چند
سکّے جو
بڑھ
جائیں گے
وہ بھی
ٹیکسوں
کی صورت
میں حاکم
ہی لے
جائیں گے
تنخواہ
دار طبقہ
بجٹ
بنانے
والوں کو
تب روئے
گا
بیٹھ کے
گھر کے
کونے میں
وہ اشکوں
سے منہ
دھوئے گا
نظم
اقبال
بسملؔ
تیرا
پاکستان
ہے یہ میرا
پاکستان
ہے
پانی ہے نہ
بجلی اس
میں چینی
کا بحران
ہے
آٹا مہنگا
،دالیں
مہنگی،
مہنگا ہے
پٹرول
یہاں
سبزی
،گوشت
پہنچ سے
باہر پھل
کھائے
انسان
کہاں
مرچ
،مصالحے ،
گھی کی
قیمت
پہنچی ہے
آسمانوں
پر
مہنگائی
کے دور میں
بندش لازم
ہے
مہمانوں
پر
باہر سے
آنے والی
ہر شئے میڈ
اِن
پاکستان
ہے
تیرا
پاکستان
ہے ، یہ
میرا
پاکستان
ہے
خود کش
حملے ،
دہشت
گردی،آگ
تعصب کی ہے
بھر دی
آنِ واحد
میں کوئی
بستی بے جا
نذرِ آتش
کر دی
قاتل ،چور
، لٹیروں
سے تو بہتر
اب حیوان
ہے
تیرا پا
کستان ہے
یہ میرا
پاکستان
ہے
اخوّت اور
مساوات کے
حامی ،
دعویدار
ہیں جو
امن ،سکون
کی دنیا کے
، خود ہی
تو غدّار
ہیں وہ
اُن کے تم
کردار کو
دیکھو ،
انساں
نہیں
شیطان ہیں
وہ
ظلم کریں
جو اوروں
پر ،مذہب
کے ٹھیکے
دار ہیں و
مقتول
بھی ہے
انسان
یہاں اور
قاتل بھی
انسان ہے
فقط
تشدّد کے
اس دور
میں
،سستا بس
انسان ہے
تیرا
پاکستان
ہے یہ
میرا
پاکستان
ہے
پیار ،
محبت ،
امن ،
سکوں
،اتحاد
کا فقدان
ہے
***********************************************************************
اقبال
بسملؔ
سانگھڑ۔سندھ
محترم
غوری
صاحب!
کہئیے
کیا حال
ہے؟ امید
ہے
بخیریت
ہوں گے۔
میری طرف
سے آپ کی
ساری ٹیم
کو بہت
بہت
مبارک ہو
اور
سلامِ
محبت
قبول ہو۔
دو نظمیں
ارسال کر
رہا ہوں
ملنے پر
ضرور
آگاہ
کریں اور
اپنی ویب
سائٹ پر
جگہ دے کر
مشکور
فرمائیں۔
شکریہ
مسیح میں
آپ کا
خیر
اندیش
اقبال
بسملؔ
۱۷؍ مئی
۲۰۱۰ ء
***************************************************
دن
جانے کب
آئے گا؟
دن جانے
کب آئے گا
سنگ سنگ
خوشیاں
لائے گا
امن ،
محبت ،
پیار کے
نغمے پھر
سے ہمیں
سنائے گا
یک جہتی،
اتحاد کا
پرچم گھر
گھر پر
لہرائے
گا
اندھی
گولی سے
کوئی
راہی موت
کے منہ نہ
جائے گا
دن جانے
کب آئے
گا؟
جلے گی نہ
جب کوئی
عمارت
ہوگی پھر
نہ قتل و
غارت
حسد ،
تعصب،نفرت
کا کینہ ،
بغض،
عداوت کا
بے رحمی
اور
شقاوت کا
ہر دل میں
پڑی
گراوٹ کا
قلع قمع
ہو جائے
گا
دن جانے
کب آئے
گا؟
کب تک
یہ مزدور
بچارے
آٹے، گھی
کو ترسیں
گے
مظلوموں
کی
آنکھوں
سے آنسو
ٹپ ٹپ
برسیں گے
کب تک نہ
انصاف کے
داعی
سمجھیں
گے انسان
کو بھائی
ہم نے کیا
تعلیم ہے
پائی ذرا
سی بات
سمجھ نہ
آئی
آپس میں
اتحاد نہ
ہو تو
ہوتی ہے
پھر جگ
ہنسائی
کون
انہیں
سمجھائے
گا؟
دن جانے
کب آئے
گا؟
فخر سے
اونچا سر
ہوگا
اپنا....اپنا
گھر ہوگا
رات کے
اندھیارے
میں بھی
ہرگز نہ
کوئی ڈر
ہوگا
ڈنڈے
،گولی کی
سرکار سے
جب تُو
چھٹکارا
پائے گا
دن جانے
کب آئے
گا؟
دن جانے
کب آئے
گا؟