Raza
Shah
باغی
اور
مزاحمتی
شاعر
جیم فے
غوری
ٹی ایس
ایلٹ نے
ایک جگہ
لکھا تھا
کہ اپریل
بڑا ظالم
مہینہ
ہوتا ہے جس
کی تصدیق
میں فیض
احمد فیض
نے کہا کہ
اپریل میں
جدائی اور
اپنائیت
کے رنگ
برنگے
پھول
کھلتے ہیں
اپریل
واقعی بڑا
ظالم
مہینہ
ہوتا ہے جس
میں محبت
کرنے
والوں کے
لئے خوشبو
سے لبریز
پھول
کھلتے ہیں
مگر اسی
مہینہ میں
زندگی کے
پھول بھی
مرجھا
جاتے ہیں.یعنی
عظیم
انسانوں
کو موت کی
وادی میں
دھکیل دیا
گیا.(۴)چار
اپریل کو
مارٹن
لوتھر کنگ
کی گردن
میں گولی
مار کر
ہلاک کر
دیا گیا.
پاکستان
کے ہر دل
عزیز اور
پاکستانی
غریب بے کس
اور کچلی
ہوئی عوام
کو مزاحمت
کے انوکھے
فلسفہ سے
روشناس
کرانے
والے وزیر
اعظم بھٹو
کو بھی چار
اپریل کو
جیل کی کال
کوٹھری
میں تختہِ
دار پر
لٹکا دیا
گیا.
رضا شاہ کی
کتاب ’’ کلا
میں منصور‘‘
انہی عظیم
لوگوں کے
فلسفہ
مزاحمت کی
بازگشت ہے
جس میں
امن، محبت
اورانصاف
کے فلسفہ
کا پرچار
ملتا ہے.انہوں
نے اس
مجموعہ
کلام کی
تقریب
رونمائی
کے لئے یہی
ظالم اور
محبت کے
مہینہ
اپریل کا
انتخاب
کیا ہے میں
انھیں اس
کتاب کی
اشاعت پر
مبارک باد
پیش کرتا
ہوں .
ادب میں اس
کی روایت
کا اہم
کردار اور
اہمیت
ہوتی ہے جس
کے بغیر
دائمی
اقدار کا
حامل ادب
تخلیق
کرنا بہت
مشکل ہے
ہمارے ہاں
روایت
پسندی کو
کچھ لوگ
پسند نہیں
کرتے اور
دلیل یہ
دیتے ہیں
کہ ادب
تخلیق
کرنے کے
لئے روایت
کے حصار کو
توڑ کر
باہر
نکلنا
ضروری ہے
تاکہ
بدلتی
ہوئی
زندگی کے
حالات و
مشاہدات
اس انداز
میں الفاظ
کی صورت
میں پیش
کیے جاہیں
کہ عصر
حاضرکی
نئی
معنویت
پیدا ہو
جائے.الفاظ
اور علائم
آہنگ کے
ساتھ
تازگی،
نئے اشارے
اور دل کش
ایمائیت
پیدا ہو
جائے
شاعری کے
اصول اس کی
بحریں ،
ردیف و
قافیہ کے
اصول یہ سب
اس کی
روایت ہی
تو ہیں جن
سے کو ئی
شاعر
انحراف
نہیں کر
سکتا. رضا
شاہ کی
خوبی یہ ہے
کہ

وہ
روایت کا
پاپند بھی
ہے اور اس
کے ساتھ
مضبوطی کے
ساتھ جڑا
ہوا بھی ہے
لیکن باغی
شاعر بھی
ہے
ظالم دی
سرکار سنے
میں باغی
آں
میری اوہ
للکار سنے
میں باغی
آں
جس دی
تیزی اتے
اوہنوں
ناز بڑا اے
قاتل دی
تلوار سنے
میں باغی
آں
رضا نے
اپنے
اظہارِ
بیاں کے
لئے ایسا
آسان
شاعری کا
سانچہ
بنایا ہے
جس کے
وسیلہ سے
وہ شاعری
کے مقرر
کردہ
مخصوص
الفاظ اور
علائم کو
استعمال
کرتا
ہواقاری
کو اپنے
افکار کے
ساتھ
موجودہ
عہد سے
واقفیت
کراتا ہے.وہ
قاری کے
لئے ایک
پُر اَمن
انقلاب کے
آزاد
تلازمہ کا
استعمال
کرتا ہے
اُس نے
شاعری میں
نئے پن کے
ساتھ
مقصدی لے
کو بھی
شامل کر
لیا ہے.مثال
کے طور پر
میرؔ کے
ہاں میکدہ
تصوف کے
لئے
استعمال
ہوتا ہے
اور داغؔ
کے ہاں وہ
شراب خانہ
کے طور پر
استعمال
ہوتا ہے
اور علامہ
اقبال کے
لئے خانہِ
خدا کے لئے
استعمال
ہوتا ہے
اور یہی
لفظ فیض
احمد فیض
کے ہاں
مجائد
آزادی
پارٹی کا
دفتر ہے.
رضاشاہ
بھی آج کے
دور میں
مظاہر
فطرت میں
انسان کا
وجود
محسوس
کرتا ہے.
وہ معمولی
گھریلو
اشیاء میں
نیا حسن
اور
معنویت
دیکھتا ہے
اور روز
مرہ کے
معمولات
کو انوکھے
انداز میں
بیان کرتا
ہے کہ اُن
میں
دوبارہ
جان پڑ
جاتی ہے.یوں
وہ الفاظ
کو کلیشے
نہیں بننے
دیتا بلکہ
کلیشے کی
گرفت میں
رہنے کی
بجائے
زندگی کی
معنویت تک
رسائی
حاصل کرتا
ہے.
پنواں تے
سسیاں نے
پیار جتھے
کیتے نیں
عشق شراب
والے جام
جتھے پیتے
نیں
جو جام
پیایا اے
توں ساقی
اُس سارے
غم بھلا
دتے
پر دل چ
پہلے عشقے
دی اک پیڑ
پرانی رہ
گئی اے
بین
الاقوامی
شاعری میں
اٹلین
ایورڈ
یافتہ
فلسطینی
شاعرہ
فدواتوکانؔ
کی مشہور
نظم ’’
خواتین کی
جد و جہد
مغربی
کنارے میں‘‘
پر
اسرئیلی
وزیر دفاع
موشے
دایانؔ نے
اپنے
تاثرات
بیان کرتے
ہوئے کہا
کہ یہ نظم
اتنی
طاقتور ہے
کہ بیس
کمانڈوز
کے
برابرہے
آج رضاشاہ
کی کتاب
بھی
پاکستان
میں اردو
میں شائع
ہونی والی
مزاحمتی
شاعری کی
پچاس
کتابوں سے
زیادہ
طاقتور ہے.
جب وہ
اعلان
کرتا ہے.
اج فیر
بغاوت
پھٹے گی
اج اتلی
تھلے
ہوودی
۲
مظلوم دی
بلے ہو وے
دی
ظالم دی رت
پئی سکے دی
اج فیر
بغاوت
پھٹے دی
پھر ایک
اور نظم ’’
ناانصافی
نا انصافی‘‘
میں کہتے
ہیں.
ساڈے لئے
کی ظلم نیں
تھوڑے
اُچا بول
کے کھایئے
کوڑے
تینوں
قتلاں دی
وی معافی
ناانصافی
نا انصافی
اچھے
شعراء و
ادباء جو
کچھ لکھتے
ہیں وہ
مثلِ
آئینہ
ہوتا ہے جس
کے ذریعہ
قاری اُس
زمانے کے
حالات و
واقعات ،
تہذیبی و
ثقافتی
روایات و
اقدار ،
اُن کی
ذاتی
زندگی پر
مذہب کا
اثر،
سیاسی
اُتار
چڑھاو،
معاشرتی
تبدیلیاں
، انکی
شاعری میں
افکار و
نظریات کے
نقوش کو
دیکھتا ہے.
شعر و نثر
میں تخلیق
ہونے والا
ادب قاری
کے ذہن میں
فہم و
ادراک کے
نئے در
کھولتا ہے
اور اسے
زندگی اور
کائنات کے
بارے
سوچنے کی
طرف مائل
کرتا ہے.
ہل
واہندیاں
لنگھ گئی
عمر ساری
دُھپ
کھاندیاں
لنگھ گئی
عمر ساری
جو قرض
پریت وچ لے
بیٹھے ساں
اوہوا
لاہندیاں
لنگھ گئی
عمر ساری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہیڑیاں
واواں
جھلیاں
نیں
پگاں
پیریں
رُلیاں
نیں
ککِن اکھر
لکھاں میں
سوچ
دواتاں
ڈھلیاں
نیں
مذہب کو
ہمارے ما
بعد ا
لطبعیا تی
نظام کی
ساخت میں
بنیادی
اہمیت
حاصل رہی
ہے . مذہب
کا عمل دخل
ادب میں
ہمیشہ سے
ہی رہا ہے .
مذہبی
رجحانات
عالمی ادب
پر اپنے
اثرات
مرتب کرتے
رہے ہیں.دنیا
میں تخلیق
ہونے والی
شاعری میں
بے شمار
مذہبی
علامات
اور
استعارے
استعمال
ہوئے ہیں.
اج خانے
کعبے جا
اپڑے
جہناں چکے
پھوہڑ
مستیاں دے
(یا)
کہہ دیہو
سو نئیں
مننا اساں
آمر تیرے
حکماں نوں
اس ظالم دی
گل کہیڑا
کوئی آیت
قرآنی رہ
گئی اے
رضا شاہ کی
شاعری کی
صفت جو بہت
کم شعراء
میں پائی
جاتی ہے وہ
ہے کائنات
میں پھیلے
مظاہر کی
عکاسی اور
وہ بھی
بلاامتیاز
رنگ و نسل
اور مذہب
سب کو دعوت
دینا کہ آؤ
امن ،
انصاف اور
محبت کا
بول بالا
کرنے کے
لئے ظالم
کے آگے سر
جھکانے کی
بجائے
مزاحمت
کریں تاکہ
بے کس اور
کچلے لوگ
آزادی کا
سورج دیکھ
سکیں اور
دنیا میں
امن کا راج
ہو.
پردیس میں
لکھنے
والوں کی
حالت بہت
مخدوش ہے
اس نازک
صورت حال
میں رضا
شاہ کی
شاعری کا
تازہ
مجموعہ ’’کلا
میں منصور‘‘
جھیل کے
ٹھہرے
پانی میں
اترنے
والے ایک
نایاب
پرندے کی
مانند ہے
جس کے
پیروں اور
پروں کی
حرکت سے
پانی میں
ارتعاش
پیدا ہوتا
ہے جو بے
شمار
دائروں کا
سبب بنتا
ہے اور یہ
دائرے
جھیل کے
کناروں تک
پھیلتے
ہیں اس
کتاب کی
بازگشت
اردو ادب
میں دیر تک
سنائی
دیتی رہے
گی .آخر
میں ان کی
وطن سے
محبت کا
اظہار کا
یہ پہلو
بھی ملاحظ
کرتے چلیں.
’’ زندہ
پاکستان
رہوے دا‘‘
بلھے شاہ
دے بول
رہون دے
۔پیار دے
وجدے ڈھول
رہون دے ۔
ساڈا ایہو
ایمان رہو
ے دا ۔
زندہ
پاکستان
رہوے داًٍ
جیم فے
غوری sacwait@alice.it