پرویز
اقبال (ہالینڈ)
سالِ نُو
پھر آ گیا
ہے آؤ اب
یہ عزم ہو
نفرتیں مٹ
جاہیں دل
سے ہر
دشمنی بھی
ختم ہو
پونچھ کر
آنکھوں سے
آنسو ڈال
کر ہاتھوں
میں ہاتھ
سانجھی
ہوں
خوشیاں
سبھی کی
سانجھا سب
کا بھرم ہو
ایک ہی مٹی
سے جنم ہے
خوں کا رنگ
بھی ایک ہے
ایک ہو
پہچان
ہماری ایک
سب کی شرم
ہو
پھر کوئی
بھی بن نہ
پائے خیمہ
بستی دیس
میں
ہر کسی کا
گھر ہو
اپنا ہر
گھر بھی
خوش و خرم
ہو
پھول ہی
پھول
بکھیریں
ہر گلی ہر
شہر میں
آگ اور
دھوئیں سے
پھر نہ یہ
فضابھی
گرم ہو
بھول
جائیں لوٹ
کر آئیں
بہاریں اب
جو
پیار کی
خوشبو سے
ہر اک سخت
دل بھی نرم
ہو
یہ دعا
اقبالؔ کی
ہو سایہ ِ
رب ِ
ذولجلال
ہر بشر ہر
قوم پر
خدائے پاک
تیرا رحم
ہو
*
پرویز
اقبال (ہالینڈ)
قبر خالی
ہوئی کفن
بکھرا پڑا
موت کو مات
دے کر مسیح
جی اُٹھا
ڈھونڈتی
کیوں ہو
زندہ کو
مردوں میں
تم
خبر جا کے
پھیلاؤ
شاگردوں
میں تم
کر کے وعدے
وہ پورے
سبھی جی
اُٹھا
موت سے اُس
کی ہم کو
ملی زندگی
جان و روح
سے کریں اب
سد ا بندگی
جو ہے سب
کا سہار ا
وہی جی
اُٹھا
زخم غیروں
کے اور درد
خود میں
سہیں
جیسے جیا
مسیح ویسے
ہم بھی
جییں
دے کے سب
کو وہ ابدی
خوشٰ جی
اُٹھا
آؤ اقبال ؔ
مل کر یہ و
عدہ کر یں
ہم جہاں
بھی رہیں
بس مسیح کے
رہیں
ہاں ہماری
ہی خاطر
ابھی جی
اُٹھا
*
پرویز
اقبال (ہالینڈ)
کہیہ ہویا
کیوں صحن
چوں میرے
امن دے
پنچھی اُڈ
گئے نے
ہس کے چوگا
چگدے چگدے
کھلرے
دانٹرے
چھڈ گئے نے
کجھ تھوں
اُتے رہنا
سی ہن شکوہ
کی حیرانی
کیوں
سراں تھوں
چنی لتھی
ویکھ کے
عذاب دے
بدل اُڑ
گئے نے
جد مت گٹیا
ں چ آ جاوے
تے اینج وی
ہندیاں
ویکھیا اے
اوسے ای
ڈال تے
بیٹھے
بیٹھے
اوسے ای
ڈال نوں وڈ
گئے نے
بن پتیاں
دے رکھ تے
رُکھ تے
پنچھی
ہیٹھ
مسافر
بیندے نئی
تھکے ہا رے
راہی سارے
ا پنی گِڈی
چڑھ گئے نے
رب تھوں
ڈرنا سکھ
جایئے
بندیاں
تھوں ڈرنا
بھل جاں گے
جس بیڑے دا
ملاح مولا
اوہ کدوں
دے بنے پھڑ
گئے نے
پردیساں
وچ بھلاں
گے نئی
مڑآواں گے
کیہ گئے سن
ساڈے پیار
دی شمع
جلدی رہ
گئی آس دے
دیوے بجھ
گئے نے
گل وڈیاں
دی تے کوڑی
گو لی اثر
تھوں جالی
نئی ہمیش
تیری میری
گل نئی
اہیہ سچ
سیانڑے
چھڈ گئے نے
دوُر دوُر
تک سوچیا
نئی سی
اہیہ ویلا
وی آوے گا
پھکے دودھ
دی بوتل
چکھ کے بچے
پا گے اڈھ
گئے نے
پتیاں
وانگ مثا ل
ا ے اپنی
زندگی تے
اقبالؔ
لوکاں نوں
چھاں
دہندے آپے
تُ ھپے سڑھ
گئے نے
*