انور
سِن رائے.اردو
ختم کیوں
نہیں ہو
جاتی
کراچی
لٹریچر
فیسٹیول دو
روز جاری
رہ کر ختم
ہو گیا۔ اس
فیسٹیول کے
ایک اجلاس
کا موضوع
یہ سوال
تھا کہ کیا
اردو پڑھنے
والے کم
ہوتے جا
رہے ہیں۔

اجلاس شروع
ہونے سے
پہلے ہی
جتنے منہ
اتنی باتیں
والی صورت
پیدا ہو
گئی تھی۔
اس اجلاس
کے مقررین
میں ڈاکٹر
نعمان
الحق،
افتخار
عارف اور
زاہدہ حنا
شامل تھیں
جب کہ
اجلاس کی
ماڈریٹر
عارفہ سید
زہرہ تھیں۔
مجھے یہ تو
علم نہیں
کہ مقررین
کا انتخاب
کن بنیادوں
پر کیا گیا
لیکن
افتخار
عارف کا
انتخاب کچھ
اس لیے
زیادہ
موزوں اور
مناسب
دکھائی
دیتا ہے کہ
وہ شاعر و
دانشور
ہونے کے
علاوہ کم و
بیش ساری
زندگی ایسے
اداروں سے
منسلک رہے
ہیں جو کسی
نہ کسی طرح
اردو کے
فروغ کا
کام کرتے
رہے ہیں
اور اب بھی
ان کے
کاندھوں پر
نیشنل
لینگویج
اتھارٹی یا
مقتدرہ
قومی زبان
کے نظم و
نسق کا بار
ہے۔
دیگر شرکا
میں زاہدہ
حنا شاید
اس لیے
مناسب تصور
کی گئی ہوں
گی کہ جب سے
میں نے ہوش
سنبھالا ہے
انہیں اردو
اردو ہی
کرتے دیکھا
ہے۔ وہ نہ
صرف اردو
کے ایک
ڈائجسٹ کی
مدیرہ بھی
رہی ہیں جس
کی زبان و
بیان پر
کوئی انگلی
نہیں اٹھ
سکتی بلکہ
وہ اردو کی
ایک نمایاں
افسانہ
نگار اور
کالم نگار
بھی ہیں۔
فیسٹیول کے
شرکاء کا
خیال ہے کہ
اردو بولنے
والے کم
ہوتے جا
رہے ہیں
ان کے
علاوہ
ڈاکٹر
نعمان الحق
اور عارفہ
سیدہ زہرہ
لاہور میں
منیجمنٹ
سائنسز کے
ایک ایسے
ادارے میں
اردو کی
تدریس سے
منسلک ہیں
جو پاکستان
کے سرفہرست
اداروں میں
شمار ہوتا
ہے شاید ان
کے انتخاب
کو اس لیے
مناسب تصور
کیا گیا ہو
کہ وہ ان
طلبہ اور
طالبات کی
تدریس کرتے
ہیں جو آگے
چل کر کہیں
نہ کہیں اس
ملک کے نظم
و نسق میں
شریک ہوں
گے۔

اب آپ
خود سمجھ
سکتے ہیں
کہ میلے کے
منتظمیں کے
ذہن میں
کیا رہا ہو
گا۔
افتخار
عارف،
زاہدہ حنا
اور دونوں
مدرسین کا
اس بات پر
کوئی
اختلاف
نہیں تھا
کہ اردو
پڑھنے والے
کم ہوتے جا
رہے ہیں
اور اس کے
لیے انھوں
نے پاکستان
میں
اخبارات و
جرائد اور
ٹیلی ویژن
چینلوں کی
بھر مار کے
ذکر کے
ساتھ ساتھ
خاص طور پر
ایک ایسے
ٹی وی چینل
کا ذکر کیا
جس نے حال
ہی میں
اپنی
نشریات
انگریزی سے
اردو میں
منتقل کی
ہیں۔
اس کے
باوجود
اشارتاً یہ
بات بھی
کہی گئی کہ
زبان تو
تہذیب کے
سہارے زندہ
رہتی ہے جب
زبان کے سر
پر ہاتھ
رکھنے والی
تہذیب دم
توڑنے اور
سمٹنے لگتی
ہے تو زبان
بھی دم
توڑنے اور
سمٹنے لگتی
ہے۔ اس کے
لیے یونانی
اور عربی
کا حوالہ
دیا گیا۔
چاروں شرکا
کا اس بات
پر بھی
اتفاق تھا
کہ زبان کا
معیار روز
بروز گرتا
جا رہا ہے۔
اس کا
حوالہ
ڈاکٹر
نعمان الحق
نے یہ دیا
کہ وکی
لیکس کے
حوالے سے
کئی اردو
اخبارات نے
راز افشا
ہوئےکی جگہ
لکھا راز
افشاں ہوئے۔
ان باتوں
اور فکر
مندیوں میں
یہ اجلاس
ختم ہو
گیا۔ دوسرے
لوگوں کے
ساتھ جب
میں
مہاراجہہال
سے باہر
نکل رہا تو
مجھے اپنے
پیچھے سے
یہ جملہ
سنائی دیا
یہ اردو
اور اردو
بولنے والے
ختم کیوں
نہیں ہو
جاتے؟۔
میں نے مڑ
کر دیکھا
تو ایک
نوجوان
اپنے ساتھی
سے مخاطب
تھا۔
میں نے
پوچھا: کیا
مطلب؟
نوجوان کو
سوالیہ
نظروں سے
اپنی طرف
دیکھتے
ہوئے میں
نے کہا کہ
آپ نے ابھی
جو کہا ہے
کہ یہ اردو
اور اردو
بولنے والے
ختم کیوں
نہیں ہو
جاتے؟۔
کہنے لگے:
جی ہاں۔ اب
دیکھیے نا،
یہ سارا
ہجوم یہاں
جمع ہے اس
میں کتنے
لوگوں کا
اردو سے
لینا دینا
ہے۔ یہ
انگریزی کے
لوگ ہیں
اور ان میں
سے جن کی
مادری زبان
اردو بھی
ہو گی
انہوں نے
بھی کوشش
کی ہو گی کہ
ان کے بچے
اگر اردو
بولیں بھی
تو انگریزی
ہی میں
بولیں
کیونکہ
جناب سب
کچھ تو
انگریزی
بولنے سے
ہی ملتا ہے
اب اگر ہم
جیسے جن کے
ماں باپ
انگریزی
پڑھانے کے
متحمل نہیں
ہو سکتے،
جو انگریزی
بولنے
والوں کا
بوجھ
اٹھاتے ہیں
ختم ہو
جائیں اور
سارے
انگریزی
والے ہی رہ
جائیں
کیونکہ یہ
تو ہو نہیں
سکتا کہ
سارے اردو
والے ہو
جائیں تو
پھر پتہ
چلے کہ
صلاحیت کیا
ہوتی ہے۔
عارفہ سید
نے ٹھیک ہی
کہا کہ
اردو ہماری
بدنصیبانہ
وراثت ہے۔